عظمیٰ نیوزڈیسک
چنڈی گڑھ//کسان ایم ایس پی سمیت مختلف مطالبات کو لے کر شمبھو بارڈر پر احتجاج کررہے ہیں۔ دہلی کوچ کے لیے کسان بڑی تعداد میں سرحد پر جمع ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی پولیس کا دعویٰ ہے کہ کسانوں نے کئی بار پتھراؤ بھی کیا۔ ایسے میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے متعدد بار آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے۔غور طلب ہو کہ پولیس اور کسانوں کے درمیان ہاتھا پائی میں کئی پولس اہلکار اور کسان زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کسانوں کی احتجاج کی وجہ سے ہریانہ حکومت نے ایک بار پھر ریاست کے سات اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں بڑھا دی ہیں۔ کسانوں کی احتجاج کی وجہ سے ہریانہ کے سات اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندی مزید 2 دن کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ حکم نامے کے مطابق 19 فروری کی رات 12 بجے تک انٹرنیٹ سروس پر پابندی رہے گی۔ جن اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندی ہے ان میں امبالہ، کروکشیتر، کیتھل، جیند، حصار، فتح آباد اور سرسا میں انٹرنیٹ خدمات بند رہیں گی۔کسانوں کے ساتھ بات چیت کے تین دور مثبت ماحول میں ہوئے ہیں۔ بات چیت کا پہلا دور 8 فروری کو ہوا، جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور 12 فروری کو کسانوں کے دہلی کی طرف مارچ کرنے سے پہلے ہوا۔ کسانوں نے 13 فروری کو دہلی کی طرف مارچ شروع کیا۔ ساتھ ہی کسانوں کے ساتھ میٹنگ کا تیسرا دور 15 فروری کو منعقد ہوا۔ لیکن، کسانوں اور حکومت کے درمیان کوئی مکمل معاہدہ نہیں ہوا۔اطلاعات کے مطابق تیسرے دور کی میٹنگ میں بھی کچھ معاملات پھنسے رہے۔ اب میٹنگ کا چوتھا دور آج ایک بار پھر چنڈی گڑھ میں شام 6 بجے کو ہونا ہے۔ پہلی اور تیسری میٹنگ میں مرکزی وزراء کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان بھی موجود تھے۔15 فروری کو ہونے والی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر زراعت ارجن منڈا نے کہا تھا کہ “کاشتکار تنظیموں کے ساتھ بہت مثبت ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔شمبھو بارڈر پر اپنے مطالبات کو لے کر دہلی کوچ کرنے والے کسانوں کا آج چھٹا دن ہے۔ پنجاب کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے جنرل سکریٹری، سرون سنگھ پنڈھر نے کہا کہ “شمبھو سرحد پر آج ہمارا چھٹا دن ہے۔ آج ہم حکومت سے بھی بات کریں گے۔ حکومت نے کچھ وقت مانگا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر بات کرے گی۔