یو این آئی
نئی دہلی// ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز چیتا، گلدار اور کمبھیر کو چار دہائیوں تک ملک کی شاندار خدمات کے بعد موقوف کر دیا گیا۔وزارت دفاع نے ہفتے کے روز بتایا کہ ان جہازوں کو کام سے ہٹانے کا پروگروام جمعہ کو پورٹ بلیئر میں ایک روایتی تقریب میں منعقد کی گئی تھی، جس میں غروب آفتاب کے وقت قومی پرچم، بحری جھنڈے اورتینوں جہازوں کی ڈی کمیشننگ علامت کو آخری بارنیچے اتارا گیا۔چیتا، گُلدار اور کمبھیر کو گڈنیا شپ یارڈ واقع پولینڈ میں پولنوکنی کلاس لینڈنگ بحری جہاز کے طور پر بنایا گیا تھا اور مسٹر ایس کے اروڑا (چیتا اور گلدار) اور مسٹر اے کے داس (کمبھر) کی موجودگی میں بالترتیب 1984، 1985 اور 1986 میں ہندوستانی بحریہ میں شامل کیے گئے تھے ۔ دونوں اُن دنوں پولینڈ میں ہندوستان کے سفیر تھے ۔ تینوں جہازوں کے کمانڈنگ آفیسر بالترتیب کمانڈروی بی مشرا، لیفٹیننٹ کمانڈر ایس کے سنگھ اور لیفٹیننٹ کمانڈر جے بنرجی تھے ۔ اپنے ابتدائی سالوں کے دوران، چیتا کو مختصر مدت کے لیے کوچی اور چنئی میں اور کمبھیر اور گلدار کو وشاکھاپٹنم میں رکھا گیا تھا۔ بحری جہازوں کو بعد ازاں انڈمان اور نکوبار کمان میں دوبارہ لایا گیا، جہاں ان جہازوں نے اپنی موقوفی تک خدمات انجام دیں۔ یہ بحری جہاز تقریباً 40 سال سے فعال بحری خدمات میں تھے اور 12,300 دنوں سے زیادہ سمندر میں رہتے ہوئے ان جہازوں نے مجموعی طور پر تقریباً 17 لاکھ سمندری میل کا فاصلہ طے کیا تھا۔ انڈمان اور نکوبار کمانڈ کے ایمفیبین پلیٹ فارم کے طور پر ان جہازوں نے فوجی دستوں کو ساحل پر اتارنے کے لیے 1300 سے زیادہ ساحلی آپریشن کیے ۔اپنے شاندار سفر کے دوران ان بحری جہازوں نے متعدد میری ٹائم سیکیورٹی مہمات اور انسانی امداد اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ ان میں آئی پی کے ایف آپریشنز کے ایک حصے کے طور پر آپریشن امن اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کی اسمگلنگ اور ہندوستان اور سری لنکا کی سرحد کے پار غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے کے لیے مئی 1990 میں آپریشن تاشا کے دوران ان کا کردار قابل ذکر ہے ۔