ویب ڈیسک
واشنگٹن// امریکہ میں لیوسٹن کے مائن علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اینڈروسکوگن کاو¿نٹی شیرف کے دفتر (پولیس) نے اپنے فیس بک پیج پر مشتبہ شخص کی دو تصاویر جاری کیں، جن میں ایک بندوق بردار کو اسٹیبلشمنٹ میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مشتبہ شخص نے اپنے کندھے پر ہتھیار لٹکا رکھا تھا اور وہ اس وقت فرار ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ تین الگ الگ اداروں پر گولیاں چلائی گئیں، جن میں سپیئر ٹائم ریکریشن، سکیمینزیز بار اینڈ گرل ریستوراں اور والمارٹ ڈسٹری بیوشن سینٹر شامل ہیں۔ واشنگٹن میں ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن کو فائرنگ کے اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایف بی آئی کے دفتر نے کہا کہ وہ لیوسٹن، مائن میں ہلاکت خیز فائرنگ کی تحقیقات کے لیے تیار ہے۔ ایف بی آئی کے بیان کے مطابق، ‘ایف بی آئی بوسٹن ڈویڑن مائن میں اپنے مقامی، ریاستی اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ہم شواہد اکٹھا کرنے، تفتیش اور اسٹریٹجک مدد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔
پولیس نے حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے لوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ تصویر میں لمبی بازو کی شرٹ اور جینز پہنے ایک داڑھی والے شخص نے رائفل پکڑی ہوئی ہے اور فائرنگ کر رہا ہے۔
لیوسٹن کے سینٹرل مائن میڈیکل سینٹر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ لیوسٹن اینڈروسکوگن کاونٹی کا حصہ ہے اور مائن کے سب سے بڑے شہر پورٹ لینڈ سے تقریباً 35 میل (56 کلومیٹر) شمال میں واقع ہے۔
گن وائلنس آرکائیو کے مطابق مئی 2022 کے بعد امریکہ میں فائرنگ کا یہ سب سے مہلک واقعہ ہے۔ مئی 2022 میں ایک بندوق بردار نے ٹیکساس کے اووالڈے کے ایک اسکول میں فائرنگ کر کے 19 بچے اور دو اساتذہ کو ہلاک کر دیا تھا۔ 2020 میں کورونا کی وبا شروع ہونے کے بعد سے امریکی فائرنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2022 میں اس طرح کے 647 واقعات پیش آئے اور 2023 میں 679 واقعات پش آ چکے ہیں۔