عارف بلوچ
اننت ناگ//دیہی علاقوں میں کھیل سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے سپورٹس سٹیڈیم تعمیر کئے جارہے ہیں تاہم سیاحتی مقام ویری ناگ کا سٹیڈیم کافی عرصہ سے تشنہ تکمیل ہے جس کے باعث یہاں کے مقامی کھلاڑیوں کو دقتوں کا سامنا کر نا پڑرہا ہے۔سپورٹس کونسل نے گذشتہ سال ویری ناگ سٹیڈیم تعمیر کر نے کے لئے قریباً 52 لاکھ روپے واگذار کئے اور اعلان کیا گیا کہ سٹیڈیم 75 دنوں کے اندر اندر تعمیر ہوگا تاہم کافی عرصہ گذر جانے کے بعد بھی سٹیڈیم کی تعمیر مکمل نہیں ہو پائی ہے۔مقامی کھلاڑی عاشق حسین کا کہنا ہے کہ سٹیڈیم تعمیر کے اعلان کے ساتھ ہی یہاں کے کھلاڑیوں نے جشن منایا تھا اور اس بات کی امید تھی کہ سٹیڈیم وقت پر مکمل ہو جائے گا اور نوجوان کھیل کا مظاہرہ کریں گئے لیکن سست رفتاری اور ٹھیکیدار کی عدم توجہی نے سٹیڈیم کی تعمیر کو لمبا کھینچا ہے جس کے باعث رواں سال بھی سٹیڈیم قابل کھیل بننا مشکل نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وادی کے کونے کونے میں کھلاڑی کھیل کے میدانوں میں اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاہم ویری ناگ سٹیڈیم کی تعمیر ہنوز ایک خواب بن چکا ہے۔ادھر ایک اور کھلاڑی کا کہنا ہے کہ سٹیڈیم نالہ ساندرن کے قریب تعمیر ہورہا ہے لہٰذا سٹیڈیم کی حفاظت کے لئے عقبی کنکریٹ دیوار بندی ناگزیر ہے۔انہوں نے محکمہ فلڈ کنٹرول سے اپیل کی کہ وہ سٹیڈیم کے اردگرد کنکریٹ دیوار تعمیر کرنے کے لئے اقدامات کریں۔محکمہ سپورٹس کونسل کے ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ سٹیڈیم کے اندر رواں سال کے جولائی ماہ تک پانی ابل رہا تھا جس کی وجہ سے کام میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تاہم پانی سوکھ جانے کے ساتھ ہی کام میں تیزی لائی گئی ہے اور فی الوقت شدومد سے کام جاری ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ سٹیڈیم کی حفاظت کنکریٹ بنڈ کے ساتھ ہی ممکن ہے لہٰذا کنکریٹ بنڈ تعمیر ہونا چاہیے جس کے لئے محکمہ فلڈ کنٹرول کو آگے آنا چاہئے۔