عظمیٰ نیوز سروس
جموں//اپنی پارٹی نے پری پیڈ میٹروں کی تنصیب اور جموں وکشمیر میں بجلی کے زیادہ کرایہ کیخلاف شہیدی چوک جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی قیادت اپنی ٹریڈ یونین جموں وکشمیر صدر اعجاز کاظمی کر رہے تھے جس میں پارٹی لیڈروں اور ورکروں نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے جموں وکشمیر میں سمارٹ میٹروں کی تنصیب کے خلاف نعرے باز ی کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ اس فیصلے کو واپس لیاجائے اور جموں وکشمیر میں بجلی صارفین کو ہراساں کرنا بند کیاجائے۔اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز کاظمی نے کہاکہ یہ ایک گھوٹالہ معلوم ہوتا ہے جس میں پچھلے تین سالوں میں RAPDRP اسکیم کے تحت جموں شہر کے 1، 2 اور تیسرے ڈویڑن میں 1700 کروڑ کے کھمبوں میں 5 لاکھ روپے کے میٹروں کے ساتھ پہلے سے کام کرنے والے بجلی کھمبے نصب ہیں۔کاظمی نے حیرانگی کا اظہار کیاکہ تین لاکھ سمارٹ میٹروں کی تنصیب پر 1000کروڑ روپے خر چ کئے جارہے ہیں یہ جانتے ہوئے کہاکہ پہلے سے نصب اچھے سے کام کر رہے ہیں جن میں آٹومیٹیک ریڈنگ فیچر موجود ہے جن میں میٹر ریڈر کی بھی ضرور ت نہیں۔میٹروں کی تنصیب کا ٹھیکہ غیر تجربہ کار ٹھیکیداروں کو دیاگیا ہے اور حیرانگی کا عالم یہ ہے کہ تنصیب کے وقت سمارٹ میٹروں کو ٹسٹ بھی نہیں کیاجارہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ ایجنسی کی طرف سے شفافیت نہیں۔صارفین کو اضافی بجلی کرایہ کے بل بھیجنے سے تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ بجلی کے استعمال، میٹروں کی ریڈنگ اور یونٹس متعلق محکمہ میں کوئی شفافیت نہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ صارفین کو اعتماد میں لئے بغیر میٹروں کو پری پیڈ موڈ میں تبدیل کیاجارہا ہے۔ محکمہ بجلی کے پاس پری پیڈ میٹروں کی تنصیب کے لئے کوئی جوازیت نہیں۔بزرگ لوگ سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے اور وہ کیسے اِن میٹروں کا ریچارج کریں گے دوسری طرف یہ خزانہ عامرہ پر بہت زیادہ بوجھ ہے۔