عظمیٰ نیوز سروس
جموں// پرانے شہر جموں میں ہفتہ کو 10ویں محرم (عاشورہ) کا ایک شاندار جلوس زیارت پیر مٹھا سے انجمن امامیہ جموں کے بینر تلے نکالا گیا جس میں مختلف علاقوں سے ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی، نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑکی شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا۔ عزداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضلع پولیس اور نیم فوجی دستوں کی ایک بڑی تعداد کو تمام چوکیوں اور زیارت روڈ، جموں تک جلوس کے راستوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ راستے میں دکانداروں اور مختلف برادریوں کے لوگوں نے سوگواروں کو پانی اور دیگر کھانے کی اشیاء پیش کیں۔ ایران (قم) سے مولانا سید محمد عباس رضوی نے ایک مختصر مجلس پیش کی۔ رضوی نے اپنے خطاب میں امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات اور کربلا سے حاصل ہونے والے اسباق پر زور دیا۔ جلوس روایتی راستے سے ہوتا ہوا کربلا کمپلیکس زیارت روڈ پر اختتام پذیر ہوا جہاں مولانا سید محمد عباس رضوی کی طرف سے مجلس شام غریباں بھی سنائی گئی۔ قبل ازیں انجمن حیدری نیو پلاٹ کے زیراہتمام جلوس بھی نیو پلاٹ سے نکالا گیا اور مرکزی جلوس امام بارگاہ صوفی شاہ پیر مٹھا میں جا ملا۔ انجمن امامیہ جموں کے صدر سید امانت شاہ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں اور کربلا کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ یہ صرف جنگ نہیں ہے بلکہ یہ سبق ہے کہ کیسے ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کربلا افراد کی لڑائی نہیں بلکہ نظریات کی جنگ ہے۔ سینئر صحافی اور مشاورتی کمیٹی انجمن امامیہ جموں کے رکن سہیل کاظمی نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور انتظامیہ کا محرم کے تمام ایام میں کردار اور تعاون اور جلوس میں شرکت کرنے پر سول سوسائٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ نائب صدر انجمن امامیہ سید آفاق حسین کاظمی نے کہا کہ کربلا کا معرکہ تاریخ کا واحد معرکہ تھا جس میں خون کو تلوار پر کامیابی ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم اپنی مستقبل کی کوششوں میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ شکریہ کے کلمات ادا کرتے ہوئے سیکرٹری انجمن پروفیسر سجاد خان نے کہا کہ وہ تمام تنظیموں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جلوس کے دوران عزاداروں کی تازگی کے طور پر مختلف سٹالز لگا کر بھرپور تعاون اور تعاون کیا۔ اسی
طرح اُنہوں نے انجمن حیدری نیو پلاٹ، انجمن حسینی کرگل کالونی بٹھنڈی ، آل لداخ مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن جموں اور کرگل اور لیہہ کی دیگر طلبہ تنظیموں، موبلائزیشن ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی لداخ کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
چندرکوٹ میں عاشورہ جلوس بر آمد
سینکڑوں عزاداروں کی شرکت
نواز رونیال
رام بن //رام بن کے چندرکوٹ علاقے میں انجمن امامیہ چندرکوٹ کے زیر اہتمام خط چناب کے شیعہ اکثریتی علاقے امام گاہ علی نگر کنفر چندرکوٹ سے ماتمی جلوس نکالا گیا جس میں بڑی تعداد میں بزرگوں ، نوجوانوں اور بچوں نے شرکت کی۔ انجمن امامیہ علی نگر کنفر چندرکوٹ سے ذوالجناح عالم اور تعزیہ کا جلوس امام بار گاہ چندرکوٹ سے علامتی کربلا نکالا گیا جس میں شیعہ طبقہ سے وابستہ سینکڑوں عزاداروں نے حصہ لیا۔ اس موقع پر مولانا سعید شرر نقوی کی طرف سے ایک مختصر تقریر بھی کی گئی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں امام حسین علیہ اسلام کی تعلیمات اور کربلا کے حوالے سے مختصر تفصیلات بیان کیں۔ امام گاہ سے جلوس نکالنے سے قبل مختلف مکاتب فکر کے مقررین نے شفاء کر بلا حضرت امام حسین علیہ سلام اور انکے 72 ساتھیوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ جلوس میں سینکڑوں عزادار مر ثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے شام کو امام بارگاہ کنفر چندرکوٹ میں جلوس کے انعقاد کے دوران ماتمی افراد کے لیے طبی امداد ، پانی کی فراہمی اور صفائی کے انتظام کے علاؤہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
پونچھ میں یوم عاشورہ مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا
پونچھ ،گورسائی او ر منڈی میں جلوس ہائے عزابرآمد،سبیلوں کا اہتمام
حسین محتشم+جاوید اقبال
پونچھ// دنیا بھر کی طرح پونچھ میں بھی یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ ضلع پونچھ کے صدر مقام پر تکیہ سید پہلوان شاہ سے انجمن جعفریہ پونچھ کے زیر اہتمام جلوس عزا برآمد ہوا۔یہ جلوس مختلف راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں اختتام پذیر ہوا۔جلوس کے دوران جہاں ماتمی دستوں نے نوحہ و ماتم کیا وہی علمائے کرام نے اپنے پیغام میں کہا کہ’’ ہماری قوم اور پوری اْمتِ مسلمہ کو جن چیلنجز اور آزمائشوں کا سامنا ہے اس میں ہمیں امام حسین کی قربانی سے سبق حاصل کرنا چائیے‘‘۔تحصیل منڈی کے صدر مقام پر انجمن تنظیم المومنین منڈی اور گلشن حسینی پلیرا کے باہمی اشتراک سے امامیہ پارک میں صبح 10 بجے ایم والے عاشورہ بجا لائے گئے جس کے بعد مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا جہاں پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے فلسفہ شہادت امام حسین بیان فرمایا۔جلوس کے شرکاء نے وہیں نماز ظہرین ادا کی۔نماز کے فورا بعد جلوس عزا برامد کیا گیا جلوس کے دوران عزادار نوحہ و ماتم سے شہدائے کربلا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرتے رہے جبکہ جلوس کے راستوں پر پانی کی سبیلوں اور نذر و نیاز کا بھی اہتمام کیا گیا۔اس دوران پولیس، سی آر پی ایف اور ٹریفک پولیس کے اہلکار جلوس کی سیکورٹی پر مامور رہے۔حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام کے زیر اہتمام حسین اباد گرسائی نالہ میں جلوس عزا برامد کیا گیا۔یہ جلوس مولانا سید مختار حسین جعفری کی زیر نگرانی برامد ہوا جس میں ہزاروں عزادار شریک جلوس جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا مسجد فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا میں اختتام پذیر ہوا۔اس دوران ماتمی دستوں کی شکل میں عزاداروں نے نوخہ خوانی اور سینہ زنی کر کے بارگاہ حسینی اس نے نہیں میں اپنا نظرانہ عقیدت پیش کیا۔تحصیل مینڈھر میں جلوس عزا برآمد ہو جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے امام بارگاہ میں ڈر میں اختتام پذیر ہوا۔سب ڈویژن میں گورسائی کیساتھ ساتھ سنگالہ علاقہ میں سے جلوس برآمد ہوئے ۔ جلوس کے راستوں میں جگہ جگہ پانی، شربت اور چائے کی سبیلیں لگائی گئی ہیں اور عزاداروں میں ندر و نیاز بھی تقسم کیا گیا۔ مجالس عزااور جلو سہائے عزا کے دوران عاشقان اہلبیت عصمت و طہارت اور عالم انسانیت کے لئے دعائیں طلب کی گئی۔مینڈھر میں شیعہ طبقہ کی جانب سے نکالے گئے جلوس میں سنی طبقہ کے لوگوں نے بھی شرکت کی جن میں بی ڈی سی چیئر مین امان اللہ چوہدری ،سرپنچ ایسوسی ایشن کا چیئر مین وسیم احمد خان ،ایڈوکیٹ ندیم خان کے علاوہ کئی معززین بھی موجود تھے۔
اہل ِسنت کی جانب سے سرنکوٹ اور مینڈھر میں جلوس نکالے گئے
بختیار کاظمی+جاوید اقبال
سرنکوٹ//محرم الحرام کی مناسبت سے اہلسنت کی جانب سے مینڈھر اور سرنکوٹ میں پروگرام منعقد کئے جانے کیساتھ ساتھ جلوس بھی نکالے گے ۔ مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ سے دعائیا تقریب کے بعد الگ بھگ گیارہ بجے کے قریب 10 محرم الحرام کو جلوس نکالا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے ۔مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ امام وخطیب مولانا عبد المصطفے ،مفتی سید بشارت حسین شاہ رضوی ،غوثیہ جامع مسجد سرنکوٹ امام وخطیب مولانا عبدالمجید قادری امام وخطیب جامع مسجد اقبال نگر مولانا عبد الرزاق خان کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء اکرام اہلسنت و الجماعت نے شمولیت اختیار کی اور امام حسین نے نانا کے دین کے لئے دی گئی قربانی پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔مقررین نے کہا کہ اگر ہمارے دین محفوظ طریقے سے پہنچا تو ہمیں دین کی تعلیمات پر عمل کرنا چائے اور امام حسین علیہ السلام کے بتائے ہوئے راستے پر خود کو اور اپنی اولادوں کو چلانا چائے تاکہ بے خیائی شراب، رشوت خوری جھوٹ غیبت جیسے گناہوں سے نجات مل سکے۔علماء نے کہاکہ اس وقت مسلمان گمراہی کی طرف گامزن ہے۔انہوں نے والدین کو تلقین کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے بچوں کو دین کی جانب راغب کرنے کیساتھ ساتھ مساجد کو آباد کریں ۔سرنکو ٹ میں نکلا گیا جلوس مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ تا اقبال نگر گیا اور وہاں سے واپس مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ پہنچا جہاں تمام محبان اہلبیت کے لئے تبروک کا اہتمام کیا گیا۔اسی طرح مینڈھر میں ایک تقریب کا اہتمام مولانا محمد سلطان نقشبندی کی قیادت میں مرکزی جامع مسجد مینڈھر میں منعقد کی گئی جہاں پر علماء و مذہبی سکالروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔مسجد میں منعقدہ پرو گرام کے دوران قرآن خوانی کیساتھ ساتھ ختمات شریف کا اہتمام بھی کیاگیا جبکہ اس دوران امان حسین کی شہادت پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ۔بعد نماز ظہر ایک جلوس مرکزی جامع مسجد سے نکالا گیا جو کہ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے واپس جامع مسجد میں جا کر اختتام پذیر ہوا جہاں پر خصوصی دعا کیساتھ ساتھ لنگر کا بندوبست بھی کیاگیا تھا ۔
سویڈن میں قرآن نذر آتش کئے جانے کیخلاف
منڈی میں نوجوانوں کا پُر امن احتجاج
حسین محتشم
پونچھ//سویڈن میں قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کے حالیہ واقعے کے خلاف پورے پوری دنیا میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس دوران تحصیل منڈی میں تنظیم المومنین منڈی اور انجمن گلشن حسینی پلیرا کے نوجوانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔سید نصیر ناصر حسین جعفری نے کہایہ پرامن احتجاج قران کے دشمنوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ ہم قران پاک کی بے حرمتی کرنے والوں سے بیزار ہیں اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو چائے کہ وہ متحد ہوکر مغرب کو واضح پیغام دے کہ آیات مقدسہ کی بے حرمتی کی کسی صور ت میں اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔