سپورٹس ڈیسک
کاٹھمنڈو// کوہ پیما سوزین جیسس کا ’پیس میکر‘ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی ایشیا کی پہلی خاتون بن کر عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق 59 سالہ انڈین کوہ پیما کی نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی کے بیس کیمپ میں طبیعت بگڑ گئی تھی۔نیپال کے محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر یوراج کھتیواڈا نے بتایا کہ ’سوزین لیوپولڈینا جیسس کی ماؤنٹ ایورسٹ بیس کیمپ میں موسمیاتی حالات سے مطابقت کے حوالے سے کی جانے والی مشقوں کے دوران طبیعت ناساز ہو گئی تھی۔’کوہ پیما عموماً 15 سے 20 منٹ میں فاصلہ طے کر سکتے ہیں لیکن سوزین کو پہلی کوشش میں پانچ گھنٹے، دوسری کوشش میں چھ گھنٹے اور تیسری کوشش میں 12 گھنٹے لگے۔‘ انہوں نے بتایا کہ سوزین کی لاش کو جمعرات کی سہ پہر کھٹمنڈو لے جایا گیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے مہاراج گنج میونسپلٹی کے تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔جب سوزین کی حالت خراب ہوئی تو اسے بیس کیمپ چھوڑنے سے انکار کر دیا گیا۔ لیکن وہ نہیں مانی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں کسی بھی قیمت پر ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنا ہے۔ بعد میں سوزین کو زبردستی لوکلا لے جایا گیا۔ جہاں 6 دن تک داخل رہنے کے بعد جمعرات کو اس کی موت ہو گئی۔ ان کا خاندان جمعہ کو کھٹمنڈو پہنچے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ نیپال میں ہیں۔ نیپال کی حکومت نے اس سال ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے 478 اجازت نامے جاری کیے ہیں۔ ایورسٹ پر چڑھنے کا بہترین وقت مارچ میں شروع ہوتا ہے اور مئی میں ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہاں موسم خراب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں رہنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ سیزن کے اوائل میں تین شیرپاوں کی موت کے بعد اس سال سیزن میں تاخیر ہوئی تھی۔ تینوں شیرپا بیس کیمپ کے اوپر خطرناک کھمبو آئس فال کے علاقے میں ایک گہرے گڑھے میں گر گئے تھے۔ جہاں ریسکیورز انہیں تلاش نہیں کر سکے۔’انہیں سولوکھمبو ضلع کے لوکلا قصبے کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور جمعرات کو ان کی موت ہو گئی۔‘