جموں// فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے منگل کو جموں و کشمیر میں جی 20 اجلاس سے قبل 270 کلومیٹر طویل جموں سری نگر قومی شاہراہ پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
جی- 20 ٹورازم ورکنگ گروپ کی تیسری میٹنگ 22 سے 24 مئی تک گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ہونے والی ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایک بریگیڈیئر سطح کے افسر نے رام بن میں سینئر پولیس اور سی آر پی ایف افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی تاکہ شاہراہ پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جاسکے۔
جموں میں مقیم وائٹ نائٹ کور آف آرمی نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر بتایا، “رام بن میں انڈین آرمی اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ ایک مربوط انداز میں سیکورٹی کے منظر نامے کو بہتر بنانے کے لیے ٹیبل ٹاپ مشق کی گئی”۔
ادھر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ سے پہلے یا اس کے دوران ملی ٹینٹوں کی طرف سے حملہ کرنے کی ممکنہ کوششوں کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد جموں و کشمیر بھر میں سیکورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ سرحدوں پر انسداد دراندازی گرڈ اور اہم تنصیبات بشمول ریلوے سٹیشنوں اور بس سٹینڈز کی حفاظت کو مضبوط بنایا گیا ہے، جب کہ دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے شاہراہوں اور اہم شہروں اور قصبوں کے ساتھ مزید چیکنگ پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد (آئی بی) اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ ساتھ دیہی دفاعی کمیٹیوں کے علاوہ فوج، بارڈر سیکورٹی فورس، پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی کثیر سطحی سیکورٹی کو چاک و چوبند کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں ریلوے سٹیشن پر سیکورٹی کو بھی سخت کر دیا گیا ہے اور تمام ایجنسیوں کو قریبی تال میل سے کام کرنے اور ملک دشمن عناصر کی کسی بھی قسم کی تخریب کاری کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ سرکاری ریلوے پولیس اور ریلوے پروٹیکشن فورس کے افسران کو بھی ریلوے پلیٹ فارم کے علاقوں اور ریلوے سٹیشن جموں کے دیگر حساس علاقوں میں گشت تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جی-20 میٹنگ: افسران نے جموں سرینگر قومی شاہراہ کے سیکورٹی منظر نامے کا جائزہ لیا