جموں// نیشنل پینتھرس پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر ہرش دیو سنگھ نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کی بحالی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی وکالت کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے ذریعے حزب اختلاف کو توڑ رہی ہے تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اپنے ”سیاسی تسلط“ کو جاری رکھ سکے۔
ہرش دیوسنگھ نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا، ”بی جے پی کی آمرانہ حکومت کے زیر اثر سابقہ ریاست کے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے”۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق سے اس وقت تک محروم کرتی رہے گی جب تک کہ حزب اختلاف کے رہنما اس کے ”آمرانہ اور جابر” حکمرانی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔
پینتھرس پارٹی رہنما نے کہا،”ہمیں موجودہ حکومت کی غلط حکمرانی اور مظالم کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ بھارتی آئین اور اس کے جھنڈے پر یقین رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں،( بھاجپا کے علاوہ) جموں و کشمیر کی قید سرزمین کے لوگوں کے ساتھ انصاف کی بحالی کے لیے ہاتھ ملائیں اور آواز اٹھائیں”۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ”اپوزیشن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور ملک میں ایک جماعتی نظام قائم کرنا چاہتی ہے“۔
سنگھ نے الزام لگایا،’بھاجپا پیسے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو توڑ رہے ہیں۔ یہ اپوزیشن لیڈروں کو دھونس دینے کے لیے زبردستی، دھمکیاں، ڈرانے دھمکانے اور ایذا رسانی کا بھی سہارا لیتے ہیں”۔
انہوں نے کہا، ”بدعنوانی، زمینوں پر قبضے، غیر متناسب اثاثوں اور دیگر گھوٹالوں کا الزام لگانے والے بی جے پی لیڈروں کو چھوٹ دی جا رہی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈروں کے مخلصانہ مقاصد پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی، جموں و کشمیر سے اس کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور اسے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر سنگھ نے کہا، ”نہ صرف جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کو چھین لیا گیا ہے بلکہ عوام کو قانونی اور آئینی طور پر منتخب حکومت سے محروم کر دیا گیا ہے،لوگ اب باہر کے بیوروکریٹس کی انتہائی غیر مقبول حکمرانی کا نشانہ بن رہے ہیں جنہیں جموں و کشمیر اور اس کے مسائل کے بارے میں شاید ہی کوئی علم ہو۔ زمینوں پر قبضے اور لوگوں کے گھروں، دکانوں اور دیگر مستقل تعمیرات کو اکھاڑ پھینکا جا رہا ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے اور سرکاری نوکریوں کی کھلے عام نیلامی ہو رہی ہے۔ ٹھیکیدار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور دیگر عارضی ملازمین اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور انصاف کے لیے ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر پراپرٹی ٹیکس لگایا جا رہا ہے”۔
بھاجپا ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ پالیسی کے ذریعے حزب اختلاف کو توڑ رہی ہے:ہرش دیو سنگھ