ڈوڈہ// ایس ایس پی ڈوڈہ عبدالقیوم نے بتایا کہ ضلع ڈوڈہ کے 118 جنگجو پاکستان اور پاک زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ہیں، جن میں سے 10 سب سے زیادہ سرگرم ہیں اور نوجوانوں کو عسکری صفوں میں شامل کرکے خطے میں ملی ٹینسی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلع کے دو جنگجووں کو ‘انفرادی’ دہشت گرد قرار دیا گیا ہے جبکہ دو دیگر کو ‘اعلانیہ مجرم’ قرار دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ڈوڈہ عبدالقیوم نے کہا کہ پولیس نے ایک ملی ٹینٹ کی جائیداد بھی ضبط کر لی ہے اور ضلع میں ملی ٹینسی کو بحال کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف ڈوزیئر تیار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا،”ڈوڈہ کے 118 ملی ٹینٹ اس وقت پاکستان اور پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ہیں، جن میں سے 10 سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ وہ یہاں کے نوجوانوں کو ملی ٹینسی میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ڈوڈہ اور جموں صوبے میں ایک بار پھرملی ٹینسی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے ایسے 10 عسکریت پسندوں کی پروفائل بنائی ہے جو سب سے زیادہ سرگرم ہیں“۔
ایس ایس پی نے کہا، “ہم نے ان میں سے ایک کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ باقی کے خلاف شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے خلاف ڈوزیئر تیار کر رہے ہیں، جو ڈوڈہ میں ملی ٹینسی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ان کی جائیدادوں کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں اور وقت آنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی”۔
افسر نے مزید بتایا کہ پولیس خطے میں ’انتہائی سرگرم جنگجووں‘ کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے ابو حبیب کو، جو مبینہ طور پر خطے کے سب سے زیادہ سرگرم جنگجو میں سے ایک ہے، کو ‘انفرادی دہشت گرد’ قرار دیا ہے۔
ایس ایس پی نے کہا،”ابوحبیب خطے میں سب سے زیادہ سرگرم عسکریت پسندوں میں سے ایک ہے۔ جموں صوبے میںملی ٹینسی کے واقعات میں اس کا ہاتھ تھا، جس میں آئی ای ڈی اور گرینیڈ دھماکوں کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینا شامل تھا۔ وہ ڈوڈہ ضلع میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایم ایچ اے نے اسے ‘انفرادی دہشت گرد’ قرار دیا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا، “محمد ارشاد بھی (علاقے میں) سرگرم ہے۔ وہ حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والا جنگجو ہے اور اسے ‘انفرادی دہشت گرد’ قرار دیا گیا ہے۔ ہم ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے ان کی جائیداد کی تفصیلات لے رہے ہیں اور جب ہمیں تفصیلات مل جائیں گی تو قانونی کارروائی کریں گے”۔
پولیس افسر نے کہا، “نذیر نامی ایک اور جنگجو ہے، جو ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے۔ وہ نوجوانوں کو ملی ٹینسی میں شامل کرنے کی بھی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ ہم نے حال ہی میں عبدالرشید عرف جہانگیر نامی ایک اور عسکریت پسند کی جائیداد بھی ضبط کی”۔
ایس ایس نے بتایا،”ہم نے یو اے پی اے کے تحت 11 لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور وہ جیل میں ہیں۔ یہ ایک مثبت علامت ہے، وہ لوگوں کو سوشل میڈیا کے زریعے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،لیکن اچھی بات یہ ہے کہ جن لوگوں سے انہوں نے رابطہ کیا وہ سب پولیس کے پاس آئے۔ ہم ان کے لیے کونسلنگ کا انتظام کرتے ہیں تاکہ عسکریت پسند اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہو سکیں، میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے لوگوں کے دعوو¿ں پر یقین نہ کریں “۔
ڈوڈہ کے 118 جنگجو پاکستان میں مقیم، 10 جموں و کشمیر میں سرگرم: ایس ایس پی عبدالقیوم