محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن میں زیر تعمیر کئی قومی سطح کے تعمیراتی پروجیکٹوں میں کام کر رہے مزدوروں اور ورکروں کو لیبر قوانین کے تحت مناسب حقوق کی فراہمی کی غرض سے ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے اسسٹنٹ لیبر کمشنر رام بن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان تمام مزدوروں اور تعمیراتی ورکروں کی فہرست تیار کریں جن کے بیمہ اور پرویڈنٹ فنڈکے واجبات کیلئے تعمیراتی کمپنیوں کے سب کنٹریکٹر کی طرف سے کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے اسسٹنٹ لیبر کمشنر رام بن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان تمام مزدوروں تعمیراتی کارکنوں کی فہرست جمع کریں جن کے پی ایف اور بیمہ کے واجبات کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں بنایا گیا ہے اور ان کے ساتھ تعمیراتی کمپنیوں کے ٹھیکیدار دھوکہ کرکے سن کے مناسب حقوق کو تلف کیا جا رہا ہے۔
ایک خط میں ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے لکھا ہے کہ ان کی نوٹس میں یہ لایا گیا ہے کہ ضلع رام بن میں اودہم پور۔ سرینگر۔ بارہمولہ ریل پروجیکٹ ، ساولہ کوٹ پن بجلی پروجیکٹ اور جموں سرینگر فورلین شاہراہ جیسے قومی سطح کے پروجیکٹوں کو انجام دینے والی مختلف تعمیراتی کمپنیوں میں کام کرنے والے تعمیراتی کارکنوں کو لیبر قوانین کے مطابق پراویڈنٹ فنڈ اور انشورنس کور کے دائرے میں نہیں لایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مزدوروں اور تعمیراتی کارکنوں نے مختلف مقامات پر کام روکنے کی کوشیں بھی کیں اور مزدور قوانین کے نفاذ اور پوری اجرت کی ادائیگی کیلئے احتجاج بھی کئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے نشاندہی کی کہ “یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جہاں تعمیراتی کمپنیاں مزدوروں اور تعمیراتی کارکنوں کو مکمل واجبات ادا کرتی ہیں وہیں مبینہ طور پرتعمیراتی کمپنیوں کے سب کنٹریکٹرز مبینہ طور پر مزدوروں اور تعمیراتی کارکنوں کو ان کی مہارت کے مطابق اجرتیں نہیں دیتے ہیں جو کہ ایک سنگین اور تشویش کا باعث ہے “۔
ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے اسسٹنٹ لیبر کمشنر سے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سب ٹھیکیداروں نے لیبر اور دیگر کارکنوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا ہے اور ان مزدوروں اور تعمیراتی کارکنوں کو عام طور پر “ٹھیکیدار کھاتہ ” کہا جاتا ہے۔
انہوں نے اسسٹنٹ لیبر کمشنر کو کہا ہے کہ آپ اس بات کی نشاندہی کریں کہ اِن قومی پروجیکٹوں پر مناسب اجرتوں میں مزدوروں اور تعمیراتی کارکنوں کو کس پیمانے پر دھوکہ دیکر انہیں حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ لیبر کمشنر رام بن سے کہا ہے کہ ” آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا قومی پروجیکٹوں کے عمل درآمد میں مصروف تمام تعمیراتی کمپنیوں سے جامع فہرست معہ پی ایف نمبر حاصل کریں اور اسے پی آر ڈبلیو یا سب کنٹریکٹروں کی فہرستوں کے ساتھ میل کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ پرویڈنٹ فنڈ ، انشورنس کور اور دیگر فوائد سے مزدور برادری محروم نہ ہو اور اس معاملے کی جانچ پڑتال میں مدد مل سکے”۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب کسی سب لیٹ ٹھیکیدار کے ساتھ کام کر رہے کسی مزدور یا تعمیراتی کارکن کسی حادثے میں زخمی یا ہلاک ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار کی طرف سے تعمیراتی کارکنوں کے حق میں پی ایف اور انشورنس کور نہیں رکھا گیا ہوتا ہے اور اسے معاوضہ یا کسی مالیاتی فائدے کے حق اور فراہمی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔