جموں//کانگریس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ نے منگل کو جموں وکشمیر میں آزاد اور منصفانہ اسمبلی انتخابات کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر کرن سنگھ، “آخری ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے،” نے بھی مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر میں ریاست کا مکمل درجہ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہاں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سابق ریاست جموں و کشمیر کے سابق صدر مملکت نے کہا کہ جنگ کے بغیر پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو واپس لینے کا کوئی امکان نہیں ہے اور جنگ سے صرف نقصان اور تباہی ہو سکتی ہے۔
جموں و کشمیر میں بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا ، ” اگست 2019 کے فیصلے اور دفعہ 370 کی منسوخی ایک بہت سخت قدم تھا۔ جس کے بعد اب تین سال ہو چکے ہیں، جموں و کشمیر مرکزی انتظامیہ کے ماتحت ہے۔
کرن سنگھ نے کہا،”بہت ساری اچھی چیزیں ہوئی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن میں جس چیز کی کمی محسوس کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔ ایم ایل ایز، چاہے وہ اچھے ہوں یا برے، ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک رابطے کی مانند ہیں”۔
انہوں نے کہا،”آج کوئی ایم ایل اے نہیں ہے اور اس لیے ایک بیوروکریسی ہے اور وہ ہر کسی کی بات نہیں سن سکتی۔ یہ ان کا کام نہیں ہے اور اس خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے، جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروا کر پورا کیا جا سکتا ہے، عوامی حکومت اس خلاءکو پر کرنے کیلئے ایک ایسی کڑی ہوگی جو فی الحال غائب ہے”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اب پی او کے واپس حاصل کرنے کا وقت ہے، انہوں نے کہا ،”وقت کو پلٹنا اتنا آسان نہیں ہے اور جنگ کے بغیر پی او کو واپس لانا ممکن نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جنگ کے نتائج کیا ہوتے ہیں جو موت اور تباہی لاتی ہے”۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پڑوسی ممالک کے غیر قانونی قبضے میں آنے والے علاقے جموں و کشمیر کا حصہ ہیں اور “اگر ہم ان علاقوں کو واپس لے لیں تو اچھی بات ہے۔ لیکن کیا ہم جنگ کے لیے تیار ہیں، چین بھی وہاں ہمارے مخالف کھڑا ہے”۔
سابق ریاست کی تقسیم پر، انہوں نے کہا، “مجھے یقین ہے کہ ہمیں پیچھے جانے کے بجائے آگے دیکھنا ہوگا جو فائدہ مند نہیں ہے”۔
انہوں نے کہا،”میرا منتر یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ حال اور مستقبل کو دیکھا ہے۔ میں نے (اپنی زندگی میں) بہت سی چیزیں دیکھی ہیں اور میں (واقعات سے) کبھی حوصلہ نہیں ہارا ہوں۔ وقت بدلتا رہتا ہے اور ہمیں دنیا کو بہترین جگہ بنانے کے لیے کچھ کرنا چاہیے”۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے بھارت کی سرحدوں کو گلگت اور لداخ تک پھیلانے کے لیے اپنا خون دیا ہے۔
سنگھ نے جبری تبدیلی مذہب کی بھی مخالفت کی، چاہے وہ ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں اور کہا کہ ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔
کرن سنگھ نے ریاستی درجہ کی بحالی اور جلد اسمبلی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا