جموں//ڈیموکریٹک پروگریسیو آزاد پارٹی کے چیئرمین غلام نبی آزاد نے کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش کو ان کے لئے “غلام”، “میر جعفر” اور “ووٹ کاٹنے والا” جیسے الفاظ استعمال کرنے پر قانونی نوٹس بھیجا ہے۔
آزاد کے قانونی وکیل نریش کمار گپتا کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس میں آزاد کی “بے داغ ساکھ” کو نقصان پہنچانے کے لیے 2 کروڑ روپے کا معاوضہ طلب کیا گیا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جے رام رمیش (نوٹس وصول کنندہ)…آپ قومی سطح پر ان کی (آزاد) کی بڑھتی ہوئی عزت اور ساکھ کو داغدار کرنے اور نقصان پہنچانے کے ہمیشہ مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ آزاد کو پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازے جانے کے فوراً بعد، آپ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں بار بار ‘غلام’ کا لفظ استعمال کیا تاکہ دوسروں کی رائے میں ان کی تذلیل کی جا سکے۔
گپتا نے نوٹس میں کہا کہ رمیش نے جان بوجھ کر آزاد کو بدنام کرنے کے لیے ایسا کیا۔
نریش کمار گپتا نے نوٹس میں کہا کہ جئے رام رمیش نے غلام لفظ کا استعمال (Slave) کے طور پر کیا ہے۔ یہ سیاستداں کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیا گیا کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ رمیش نے اپنے بیانوں کے ذریعے سے آئی پی سی کی دفعہ 500 کے تحت جرم کیا ہے اور معاوضہ کی ادائیگی کرنے کے لیے وہ جواب دہ ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آزاد کے خلاف دیے گئے بیانات بدنیتی پر مبنی تھے جو آزاد کے لیے “ذہنی تکلیف، اذیت، ایذا رسانی” کا باعث بنے اور ان کی شبیہ کو داغدار کیا، جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
گپتا نے رمیش کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قانونی نوٹس کی وصولی کی تاریخ سے دو ہفتوں کے اندر میڈیا کے ذریعے یا کسی بھی قسم کی بات چیت کے ذریعے غیر مشروط معافی مانگیں۔
غلام نبی آزاد نے جئے رام رمیش کو 2 کروڑ روپے کا ہتک عزت نوٹس بھیجا