نئی دہلی//صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے لداخ کے لیفٹیننٹ گونر رادھا کرشنن ماتھر کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے اور اروناچل پردیش کے گورنر (ڈاکٹر) بی ڈی مشرا (ریٹائرڈ) کو لداخ کا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا ہے۔
صدر کے دفتر سے جاری ایک مواصلات کے مطابق، بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) بی ڈی مشرا ،اروناچل پردیش کے موجودہ گورنر ، کو ایل جی لداخ مقرر کیا گیا ہے۔
مواصلت میں مزید کہا گیا ہے کہ ماتھر کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے۔
ایل جی ماتھر کا استعفیٰ لداخ میں سول سوسائٹی گروپوں کے احتجاج کے درمیان سامنے آیا ہے۔
لیہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) جو نئے تشکیل شدہ یونین ٹیریٹری لداخ کے لیے کئی آئینی تحفظات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت قبائلی اکثریتی علاقے کے تحفظ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
دونوں اداروں نے 15 فروری کو دہلی میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
مقامی لوگوں نے ایل جی کے ہاتھ میں اقتدار کے ارتکاز اور ان کے غیر مقامی ہونے کی وجہ سے خدشات کا اظہار کیا۔
تعلیمی اصلاح کار اور لداخ کی سب سے مقبول آوازوں میں سے ایک سونم وانگ چک نے کچھ روز قبل ایک نیشنل ٹیلی ویژن پر کہا، “ایل-جی، جو ایک غیر مقامی شخص ہے، کو ہم پر حکومت کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ایک آدمی ہر چیز کا فیصلہ کرتا ہے۔ لداخ کے لیے مختص کردہ 6ہزار روپے میں سے 90فیصد غیر منتخب شخص کے اختیار میں ہے۔ وہ دباو¿ یا مالی فائدے کے تحت کوئی بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ جب تک وہ مسائل کو سمجھے گا، اس کے جانے کا وقت ہو جائے گا۔ ہم مکمل ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ہماری آواز سنی جائے“۔
1977 بیچ کے ایک ریٹائرڈ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر ماتھر کو 2019 میں لداخ کا پہلا ایل جی مقرر کیا گیا جب آئین کے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا اور سابق ریاست کو قانون ساز اسمبلی کے بغیردو مرکز کے زیر انتظام علاقوں- جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا۔
لداخ کے ایل جی آر کے ماتھر کا استعفیٰ منظور،بی ڈی مشرا نئے لیفٹیننٹ گورنر مقرر