نیوز ڈیسک
جموں//انسداد ِ تجاوزات مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارٹی سربراہ الطاف بخاری نے کہاکہ حکومت کے پاس غیر قانونی رہائشی بستیوں کو ریگولر ائز کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔انکاکہناتھا کہ دہلی میں بھی حکومت نے وقتاًفوقتاً ایسی کالونیوں کو ریگولر ائز کیا ہے لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ یہاں انتظامیہ کو غریب لوگوں کے مسائل کی سمجھ نہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ منتخب حکومت ہی غیر قانونی کالونیوں سے متعلق کوئی فیصلے لے گی۔بخاری نے کہا کہ انتظامیہ کو کوئی حق نہیں کہ وہ لوگوں کو اْن کی زمینوں سے نکالے۔انکاکہناتھا’’ اگر ہم نے اگلی سرکار بنائی تو ہم انتظامیہ کی طرف سے عوام مخالف لئے گئے تمام فیصلوں کو واپس کریں گے جن میں دربارموو روایت کا خاتمہ اور انسداد تجاوزات مہم شامل ہے‘‘۔انہوں نے جموں وکشمیر کی عوام کو یقین دلایاکہ’’ہم کسی بھی غیر مقامی کو جموں وکشمیر میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جموں وکشمیر کی سرزمین ، سابقہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کی ہی ہے‘‘۔اس موقع پر انہوں نے فرقہ وارانہ اور علاقائی خطوط پر جموں وکشمیر کے امن کو خراب کرنے اور انسداد تجاوزات مہم کے ساتھ لوگوں کے جذبات اْکسانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ امن بنائے رکھیں۔ انہوں نے ناجائز تجاوزات مخالف مہم کے دوران انتظامیہ کے رویہ کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔وہ پارٹی دفتر گاندھی نگر میں ایک جوائننگ پروگرام سے خطاب کررہے تھے جس میںضلع سانبہ سے تعلق رکھنے والے سرکردہ سیاسی کارکن سنی سنگرال نے درجنوںنوجوانوں کے ہمراہ سید محمد الطاف بخاری کی موجودگی میں اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ۔خطاب میں بخاری نے کہا’’ہماری جہدوجہد اْن عناصر کے خلاف ہے جوکہ مذہب اور خطہ کے نام پر لوگوں کوتقسیم کرنا چاہے ہیں اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ اپنی پارٹی امن، خوشحالی اور استحکام لانے کی وعدہ بند ہے‘‘۔ انہوں نے پروگرام میں موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا’’ ہم آپ کو آپ کی اپنی حکومت دینا چاہتے ہیں جوکہ دونوں خطوں کو یکساں ترقی یقینی بنائے کیونکہ دونوں خطوں کے لوگ ایک جیسی مشکلات کا شکار ہیں اور اِن مسائل کا حل بھی یکساں ہے‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔