نیوز ڈیسک
جموں// جمعہ کو بھی صوبائی دارالحکومت جموں میں مختلف سرکاری ملازمین نے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا۔احتجاج کرنے والوں میںرہبر کھیل ،رہبر جنگلات، این وائی سی ،پٹوار ایسو سی ایشن اور پی ایچ ای ڈیلی ویجر شامل ہیں جبکہ پی ایم پیکیج اور ریزرو کٹیگریز ملازمین بھی بدستور احتجاج پر ہیں۔رہبر کھیل اساتذہ 53دن سے بی جے پی دفتر کے باہر مطالبات کے حق میں احتجاج پر بیٹھے ہیں ۔جمعہ کوبی جے پی صدر رویندر رینہ اس احتجاج میں شامل ہوئے اور میڈیا پرآکر انہیں احتجاج معطل کرنے کا کہا کیونکہ انتظامیہ کی طرف سے بقول انکے احتجاجی ملازمین کا پہلا مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے، وہ پالیسی کے مطابق ہماری ریگولرائزیشن تک پوسٹ کو منجمد کرنا تھا۔ رویندر رینہ نے چیف سیکریٹری سے ہوئی ملاقات کا حوالہ دیکر کہا کہ چیف سیکرٹری نے انہیں بتایا کہ رہبر کھیل اساتذہ کی پالیسی برقرار رہے گی جیسا کہ کابینہ نے منظور کیا تھا۔انہوںنے احتجاجی اساتذہ سے وعدہ کیا کہ چند مہینوں میںانکا ایک اور مطالبہ پورا کیا جائے گا یعنی پروبیشن کی مدت کو 7 سال سے گھٹا کر 5 سال کرنا۔رہبرکھیل اساتذہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں ایل جی انتظامیہ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ انہیں دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور نہیں کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ وہ اس امید کے ساتھ اپنا احتجاج معطل کررہے ہیںکہ ایل جی انتظامیہ انہیں مزید سڑکوں پر آنے کا موقع نہیں دے گی اور نوٹس میں آنے والے مسائل کا قابل قبول حل نکل آئے گا۔اس دوران رہبر جنگلات ملازمین نے بھی رہبر زراعت طرز پر ان کی مستقلی اور دیگر مراعات کی واگزاری کے علاوہ تنخواہوں میں تفاوت دور کرنے کے حق میں بھاجپا دفترکے باہر اپنا احتجاج رکھا جبکہ این وائی سی رضاکاروںنے بھی بی جے پی دفتر تریکوٹہ نگر کے باہر اپنے مطالبات منوانے کیلئے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے ۔ادھر جل شکتی ڈیلی ویجروںنے بھی مستقلی اور تنخواہوںکی واگزاری کے علاوہ کم سے کم اجرت ایکٹ کے نفاذ کے حق میں احتجاج کیا۔ادھر جموں میں مقیم ریزروڈ کیٹیگری اور پی ایم پیکیج ملازمین جو کشمیر میں خدمات انجام دے رہے ہیں، نے جموں سے ان کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے 255ویں دن بھی اپنا احتجاجی مظاہرہ جاری رکھا۔مظاہرین نے اپنے مظاہرے کے دوران کہا کہ وادی کشمیر کے کچھ حصوں میں ٹارگٹ کلنگ کے بعد انہیں اپنی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ اس صورتحال میں ہم وہاں جا کر ان علاقوں میں خدمات انجام دینے کے قابل نہیں ہیں جہاں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو جموں میں مقیم ریزروڈ کیٹیگری کے ملازمین کے حق میں حکم جاری کرنا چاہئے جب تک کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی اس وقت تک انہیں جموں منتقل کیا جائے۔انکاکہناتھاکہ دھمکیوں کے باوجود انہیں کشمیر میں اپنی ڈیوٹی میں واپس آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے لہٰذا حکومت کو صورت حال کو سمجھنا چاہیے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے۔ دریں اثناء آل جموں و کشمیر پٹوار ایسوسی ایشن نے بھی احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں گریڈ پے کی اجرائی اور زیر التوا ڈی پی سی کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کی زیر التوا گریڈ پے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن عہدیداروں نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کرتے ہوئے فائل کو مسترد کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ گرداوروں کو ترقی دی گئی لیکن وقت گزرنے کے باوجود انہیں جگہ نہیں دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی ڈی پی سی کے حوالے سے ان کی تشویش کا ازالہ کرنا چاہیے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ‘اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو ہم ان پر بات کریں گے اور اس کے مطابق مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے’۔
پنڈت ملازمین کی تنخواہیں واگزار کریں،تحفظ یقینی بنائیں:آزاد
جموں//کشمیری مہاجر پنڈت ملازمین کے ایک وفد نے ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے چیئرمین غلام نبی آزاد سے ملاقات کی اور انہیں ان کے دیرینہ مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا جب سے وہ کشمیر میں گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے گزر رہے ہیں۔ کئی مہینوں سے احتجاج کرنے والے ملازمین کے وفد نے آزاد کو بتایا کہ وہ مناسب رہائش فراہم کرنے تک موو آفس میں ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے حکومت کی طرف سے اپنی تنخواہوں کو روکنے پر مایوسی بھی ظاہر کی اور زور دیا کہ شیو راتری کے موقع پر ان کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کی تنخواہیں روک دی ہیں اور انہیں اپنی حفاظت اور جان کی پرواہ کیے بغیر دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان میں سے سینکڑوں ملازمین پچھلے سال کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ذریعہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد واپس جموں بھاگ گئے تھے۔ ملازمین کے وفد نے آزاد پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل ایل جی منوج سنہا انتظامیہ کے ساتھ رکھیں اور ان پر زور دیں کہ وہ مہاجر ملازمین کی بانڈ پالیسی کو منسوخ کریں اور ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان پنڈت ملازمین سے بانڈ پالیسی کو ہٹایا جائے اور ان تمام بیمار اور خواتین ملازمین کو فوری طور پر جموں صوبے میں منتقل کیا جائے۔ آزاد نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور ان کے فوری ازالے کی کوشش کی جائے گی۔
شیو راتری سے قبل پنڈت ملازمین کے مطالبات پوراکریں
ہندو ملازمین کے ساتھ بندھوا مزدور جیسا سلوک کرنا بند کریں: : شیو سینا
جموں// شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے مطالبہ کیا کہ ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ آئندہ شیو راتری تہوار سے قبل وادی میں تعینات احتجاجی کشمیر پنڈت ملازمین کے مطالبات کو پورا کرے۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) جموں و کشمیر یونٹ کے لیڈروں نے پارٹی کے مرکزی دفتر جموں میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا، جس میں ٹرانسفر پالیسی کو لاگو کرتے ہوئے کشمیر میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوںکی محفوظ پوسٹنگ کا مطالبہ کیاگیا۔ ریاستی چیف منیش ساہنی نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانے کی ضد چھوڑ کر انہیں جموں خطہ میں محفوظ مقامات پر منتقل کرے۔ساہنی نے کہا کہ کشمیر میں پی ایم روزگار یوجنا کے تحت کام کرنے والے ہندوؤں کے ساتھ بندھوا مزدوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں قربانی کا بکرا بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کشمیری پنڈتوںکی باز آبادکاری کے حکومتی دعوؤں کو کھوکھلا دھوکہ قرار دیتے ہوئے ساہنی نے کہا کہ صرف 4200 کشمیری پنڈتوں کو ملازمتیں اور عارضی رہائش فراہم کرنے کا مطلب پوری کمیونٹی کی بحالی نہیں ہو سکتا۔انکاکہناتھا کہ بی جے پی حکومت کشمیری پنڈتوں کا نام لے کر عوام کو گمراہ کرکے سیاسی روٹیاں سینک رہی ہے،گزشتہ 6-7 ماہ سے ان ملازمین کی تنخواہیں روکی جا رہی ہیں اور انہیں وادی جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ساہنی نے مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے ٹرانسفر پالیسی کو نافذ کرنے اور کشمیری پنڈت ملازمین کو مختلف مرکزی محکموں میں منسلک کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم پیکج فنڈز براہ راست مرکز کے ذریعہ فراہم کیے جاتے ہیں لہٰذا انتظامیہ انہیں مرکزی محکموں جیسے (الیکشن کمیشن آف انڈیا، این ٹی پی سی، این ایچ پی سی، وغیرہ) یا یو ٹی لداخ میں تعینات کرسکتی ہے۔