جموں//جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے چیئرمین، غلام نبی آزاد نے جمعہ کو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری پنڈت ملازمین کی تنخواہیں جاری کرے۔
بتادیں کہ پرائم منسٹر ایمپلائمنٹ پیکج کے تحت وادی کشمیر میں تعینات سینکڑوں کشمیری پنڈت ملازمین “ٹارگٹ کلنگ” کے پیش نظر جموں منتقلی کی پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ڈی اے پی زرائع نے بتایا کہ کشمیری مائیگرینٹ پنڈت ملازمین کے ایک وفد نے آج یہاں آزاد سے ملاقات کی اور انہیں ان کے دیرینہ مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔
کئی مہینوں سے احتجاج کررہے ملازمین کے وفد نے آزاد کو بتایا کہ وہ مناسب رہائش فراہم کرنے تک موو آفس میں ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہے۔
ملازمین نے حکومت کی طرف سے اپنی تنخواہوں کو روکنے پر مایوسی بھی ظاہر کی اور زور دیا کہ شیو راتری کے موقع پر ان کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کی تنخواہیں روک دی ہیں اور انہیں اپنی حفاظت اور جان کی پرواہ کیے بغیر دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان میں سے سینکڑوں ملازمین گزشتہ سال کشمیر میں ملی ٹینٹوں کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ کے بعد جموں منتقل ہو گئے تھے۔ ملازمین کے وفد نے آزاد پر زور دیا کہ وہ ان کے مسائل کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا انتظامیہ تک پہنچائیں اور ان پر زور دیں کہ وہ مہاجر ملازمین کی بانڈ پالیسی کو منسوخ کریں اور ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنائیں۔
آزاد نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مسائل متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور ان کے فوری ازالے کی کوشش کی جائے گی۔
پنڈت ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے اورتنخواہیں جاری کی جائیں:آزاد