سید امجد شاہ
جموں// سنجوان اور ملک مارکیٹ کے علاقے میں سرکاری اراضی پر مبینہ طور قابض6افراد کودیے گئے بے دخلی کے نوٹس کے خلاف احتجاج کیاگیا۔سنجوان-بٹھنڈی روڈ پر زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں سینکڑوں افراد بشمول خواتین نے شرکت کی۔ حکام کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے تاجر برادری نے بھٹنڈی، سنجوان اور ملک مارکیٹ میں اپنی دکانیں بند کر کے بھٹنڈی-سنجواں روڈ پر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج کے دوران ایس ڈی ایم سائوتھ دیگر عہدیداروں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے مظاہرین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جن لوگوں کو یہ شک تھا کہ جن لوگوں نے سرکاری زمین پر اپنے مکانات بنائے ہیں انہیں مستقبل میں نوٹس بھی مل سکتے ہیں۔مظاہرین میں سے ایک نے بتایا”ایس ڈی ایم آئے تھے۔ انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ لوگوں کی ڈی سی جموں کے ساتھ ملاقات کو یقینی بنائیں گے‘‘۔ تاہم احتجاج جاری رہا اور انہوں نے ممبر پارلیمنٹ اور بی جے پی لیڈر غلام علی کھٹانہ کی بار بار کی یقین دہانیوں پر بھی عدم اتفاق کا اظہار کیا۔کھٹانہ نے مظاہرین کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہاکہ رہائشی ڈھانچے کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے،نوٹس صرف تجارتی ڈھانچوں کو جاری کیے گئے ہیں۔لوگ ان سے یہ یقین دہانی چاہتے تھے کہ کسی بھی رہائشی ڈھانچے کو بے دخل یا مسمار نہیں کیا جائے گا۔اس پر انہوں نے دہرایا “غریب لوگوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا” تاہم انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے ۔اس کے باوجود احتجاج جاری رہا۔
کمرشل ڈھانچوں کے نام 6نوٹس جاری
ایک ریونیوعہدیدارنے بتایا “ہم نے سنجوان اور ملک مارکیٹ کے علاقے میں چھ نوٹس بھیجے ہیں۔ یہ نوٹس صادق ملک (سنجوان منی بس سٹینڈ کے قریب کئی کنال کمرشل اراضی پر قابض)، رشید ملک (3 کنال سرکاری اراضی بشمول رہائشی) اور ایک سیاستدان کو سنجوان میں سرکاری اراضی کے کمرشل استعمال کے لیے تین کنال پر قبضہ کے لئے بھیجے گئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’اسی طرح چھنی راما کے علاقے میں دو نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن میں ایک دو شو روم مالکان اور دوسرا تجارتی ڈھانچے کے رہائشی (ایک انجینئر) کے نام جاری کی گئی”۔اس سلسلے میںجب ایس ڈی ایم ساؤتھ ابھیشیک سے رابطہ کیاگیا توانہوں نے کہا “متعلقہ تحصیلدار کی طرف سے کم از کم چھ نوٹس (سرکاری زمین کی بازیابی کے لیے) جاری کیے گئے ہیں۔ سات دن کے نوٹس کی مدت کے اندر انہیں (سرکاری زمین پر غیر قانونی قابضین) کو متعلقہ حکام کے سامنے اپنی نمائندگی کا موقع ملے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ “کچھ لوگ ایک میمورنڈم پیش کرنا چاہتے ہیں اور اسے ضلع مجسٹریٹ جموں کے سامنے پیش کیا جائے گا”۔
لوگوں میںخوف و ہراس
چونکہ سرکاری اراضی کے چھ قابضین کو نوٹسز بھیجے گئے تو اس کو دیکھتے ہوئے سنجوان، بھٹنڈی اور ملک مارکیٹ/چھنی راما میں اپنے خوابوں کے گھر اور تجارتی ڈھانچے تعمیر کرنے والے لوگوں میں خوف پایا جارہا ہے۔مظاہرین میں شامل ایک خاتون نے کہا’’خاندان بے چین ہیں۔سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہیں جو ڈپریشن میں ہیں اور راتیں بے نیند گزار رہے ہیں‘‘۔انہوںنے کہا “ہم ایک غریب گھرانے سے ہیں۔ ہم نے محنت کی کمائی سے خرید کر 1 کنال اراضی پر گھر بنایا ہے۔ حکومت رہائشی کالونیوں کو ریگولرائز کر سکتی ہے۔ وہ پہلے ہی جموں میں کئی غیر قانونی کالونیوں کو باقاعدہ بنا چکے ہیں۔ سنجوان، بھٹنڈی، ملک مارکیٹ اور چھنی راما کیوں نہیں ایساکرسکتے؟ اگر چارجز طے ہو جائیں تو ہم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جموں و کشمیر میں ہمارا کوئی دوسرا گھر نہیں ہے‘‘۔دریں اثنا بھٹنڈی کے ایک ممتاز سماجی کارکن، چودھری شبیر کوہلی نے بتایا کہ: “سنجوان روڈ پر رشید ملک اور صادق ملک (سنجوان منی بس سٹینڈ پر تعمیراتی ڈھانچوں) کو نوٹس موصول ہوئے ہیں”۔نوٹس کے بعد،انہوں نے کہا “ہزاروں خاندان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ مسلسل خوف میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ان کی پناہ گاہیں چھین لی جائیں تو وہ کہاں جائیںگے‘‘۔دریں اثناء صادق ملک اور شید ملک کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ وہ 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے دوران آر ایس پورہ (ضلع جموں) میں اپنی آبائی زمین چھوڑ کر سنجوان میں آباد ہوئے تھے۔انکاکہناتھا’’ہم1947 میں زندہ بچ گئے۔ اس لیے یہاں سرکاری زمینوں پر سنجوان میں آباد ہوئے اور نسل در نسل آج تک رہتے ہیں۔ حکومت نے پناہ گزینوں کو زمین الاٹ کی ہے، لیکن سنجوان/بٹھنڈی میں سرکاری زمین پر آباد ہونے والوں کو کئی دہائیوں کے باوجود زمین الاٹ نہیں کی گئی‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکام نے دو رویہ اپنا رکھا ہے۔انکاکہناتھا’’ملک، شیڈول کاسٹ،برہمن اور گجر 1947 میں سنجوان/بٹھنڈی میں آباد ہوئے۔ اس لیے حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور کالونیوں کو باقاعدہ بنانا چاہیے۔ ہزاروں لوگوں کو بے دخل کرنا خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں خاندانوں کے لیے انسانی بحران بن جائے گا‘‘۔نوٹس وصول کرنے والے مظاہرین میں سے ایک نے کہا “مجھے ایک نوٹس موصول ہوا ہے حالانکہ میرے پاس رہائشی مکان ہے” ۔تاہم ریونیو کے ایک عہدیدار،جو احتجاج میں موجود تھے،نے کہا کہ رہائشی مکانات کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔