کراچی//یو این آئی// اوپنر ڈیون کونوے (122) کی سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن پیر کو چھ وکٹوں کے نقصان پر 309 رن بنائے ۔کونوے نے ٹام لیتھم (71) کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے 134 رنز جوڑے ، جبکہ کین ولیمسن (36) کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 100 رنز کی شراکت کی۔ نیوزی لینڈ نے ٹاپ آرڈر کی شاندار کارکردگی کی بدولت چائے کے وقت تک صرف ایک وکٹ پر 226 رنز بنائے تھے لیکن پاکستان نے دن کے آخری سیشن میں شاندار واپسی کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد دن کا تیز آغاز کیا۔ پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے لیتھم نے 100 گیندوں میں نو چوکوں کی مدد سے 71 رنز بنائے ، انہوں نے یہاں نصف سنچری اسکور کی۔ لیتھم کے آؤٹ ہونے کے بعد کونوے نے بین الاقوامی کرکٹ میں 2023 کی پہلی سنچری اسکور کرتے ہوئے 122 رنز بنائے ۔ کانوے نے 191 گیندوں کی اپنی اننگز میں 16 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔کانوے اور ولیمسن لنچ کے بعد اپنی سنچری شراکت قائم کر رہے تھے لیکن آغا سلمان (55/3) نے کونوے کو آؤٹ کر کے پاکستان کو راحت پہنچائی۔ اس کے بعد نسیم شاہ نے ولیمسن کو وکٹ کیپر سرفراز احمد کو آؤٹ سوئنگ کروایا، جب کہ سلمان نے ہنری نکولس اور ڈیرل مچل کو آؤٹ کیا۔ابرار احمد کے ہاتھوں مائیکل بریسویل کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹام بلنڈل اور ایش سوڈھی نے نیوزی لینڈ کی اننگز کو سنبھالا۔ دن کا کھیل ختم ہونے تک بلنڈل نے 30 جبکہ سودھی نے 11 رنز بنائے اور دونوں کے درمیان ساتویں وکٹ کی شراکت 30 رنز تک پہنچ گئی۔میر حمزہ کے اگلے اوور میں ڈیون کونوے کے خلاف بھی ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل ہوئی اور پاکستان نے ریویو بھی لیا لیکن گیند وکٹوں سے کافی اوپر سے گزر رہی تھی لہٰذا پاکستانی ٹیم ایک ریویو بھی گنوا بیٹھی۔دونوں کھلاڑیوں نے پہلے سیشن میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی اور پہلی وکٹ کے لیے 134رنز کی شراکت قائم کی۔پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب نسیم شاہ کی گیند پر لیتھم کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا، انہوں نے 71رنز بنائے۔دوسرے اینڈ سے کونووے نے عمدہ کھیل کا سلسلہ جاری رکھا اور کین ولیمسن کے ہمراہ ایک اور اہم شراکت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی چوتھی سنچری اسکور کی۔پاکستان کی جانب سے آغا سلمان نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، نسیم شاہ نے 2 اور ابرار احمد نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔اس سے قبل نئے سال میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں، نعمان علی کی جگہ حسن علی اور محمد وسیم جونیئر کی جگہ نسیم شاہ کو فائنل الیون کا حصہ بنایا گیا ہے۔نیوزی لینڈ نے بھی میچ کے لیے ٹیم میں ایک تبدیلی کرتے ہوئے نیل ویگنر کی جگہ میٹ ہنری کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔پاکستان کی ٹیم میچ میں تین فاسٹ باؤلرز اور صرف ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اتری ہے جبکہ اس کے برعکس نیوزی لینڈ نے تین اسپنرز کو ٹیم میں برقرار رکھا ہے۔