نئی دہلی//یو این آئی// وجے ہزارے ایک مشہور ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی رہے ہیں۔ سال 1940 کے آخر اور 1950 کی دہائی کے اوائل میں، ہندوستان کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک وجے ہزارے نے ایک نئے آزاد ملک میں اپنی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے حریف ٹیم کے سامنے کبھی ہمت نہیں چھوڑی اور نہ ہی کبھی ان کے سامنے ہتھیار ڈالے ۔وجے ہزارے نے اپنی شاندار بلے بازی سے ہندستان کے لئے وہ ریکارڈ قائم کئے جو قابل ستائش ہیں۔وجے ہزارے 11 مارچ 1915 کو مہاراشٹرکے سانگلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا پورا نام وجے سیموئل ہزارے تھا۔ وہ ایک رومن کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ہزارے سادہ اور شرمیلی طبیعت کے مالک تھے ۔ سال 1951 اور 1953 کے درمیان انہوں نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت بھی کی۔جس کی وجہ سے وہ کپتان ہونے کے بعدباوجود بھی زیادہ شہرت حاصل نہیں کرپائے ۔ان کی کپتانی میں ہندوستان نے اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی۔ اگرچہ اس جیت کا سہرا ونو مانکڈ اور غلام احمد کی شاندار اسپن گیند بازی کو جاتا ہے ،لیکن بحثیت کپتان ان کا کردار اہم رہاتھا۔
انہوں نے 18 سال کی عمر میں مہاراشٹر کی جانب سے ‘رانجی ٹرافی ’کھیلنا میں کھیلنا شروع کیا۔ وجے ہزارے دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی گیند بازی کرتے تھے ۔ اپنے اسٹائلش اور ڈیفینسو انداز میں کھیلنے کی وجہ سے انہیں ڈیفنسیو بلے باز کہا جانے لگا تھا۔ بیرون ملک میں لوگوں کی عام رائے یہ تھی کہ جو مقا م کرکٹ میں سر بریڈمین کو آسٹریلیائی ٹیم میں ملا ہے ، گریس کو انگلینڈ میں ملا ،وہی مقام ہزارے کو ہندوستانی کرکٹ میں ملنا چاہیے تھا۔’’ وجے ہزارے ایک معتدل بلے باز رہے ۔ لیکن پھر بھی ان کے ناقدین نے ان کواپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور سمجھا جانے لگا کہ ہزارے ایک بہت سست کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 1951-1952 میں پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنائیں، لیکن وہ بھی بہت سست رفتاری سے بلے بازی کرتے ہوئے ۔ انہیں ممبئی ٹیسٹ میں اپنی زندگی کا سب سے زیادہ سکور، 164، اور پانچ گھنٹے میں 155 رن بنانے میں 8 گھنٹے 35 منٹ لگائے ۔ لیکن مجموعی طور پر کسی نے بھی ان کی تکنیک پر انگلی اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔ بلے بازی میں 2000 سے زائد رن بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے گیند بازی میں بھی طبع ازمائی کی لیکن اس میں ان کو محض 20 وکٹیں ہی حاصل ہوئیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف سال 1946-1947 سیریز کا چوتھا ٹیسٹ کھیلا۔ حالانکہ ہندوستان یہ ٹیسٹ ایک اننگز اور 16 رن سے ہار گیا تھا، لیکن ہزارے نے دونوں اننگز (بالترتیب 116 اور 145) میں سنچریاں بنا کر کانگروؤں کے ملک میں ہزاروں شائقین کا دل جیت لیا۔ ہزارے واحد بلے باز تھے جو لنڈوانے اور کیتھ ملر جیسے گیند بازوں کے سامنے ڈٹ کرکھڑے رہ سکتے تھے ۔ اس وقت آسٹریلیا کی قیادت سر ڈان بریڈمین نے کررہے تھے ۔ آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 674 رن کاعظیم الشان اسکور بنایا۔ دوسری جانب ہندستانی ٹیم پانچ وکٹوں پر صرف 133 رن ہی بنا سکی۔ ایسے میں وجے ہزارے نے اپنی شاندار پرفارمینس پیش کرتے ہوئے 188 رنوں کی میراتھن پارٹنرشپ کھیلی، لیکن پوری ہندوستانی ٹیم صرف 381 پر ہی تتر بتر ہوگئی۔