دوحہ //کسی بھی ملک کے لیے فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کا انعقاد کروانا آسان ہدف نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے میزبان ملک (یا ممالک) کا اعلان 8 سے 10 سال پہلے ہی کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی تیاریاں مطلوبہ وقت تک مکمل کرسکیں۔کہ قطر نے عالمی کپ کی تیاری کے لیے دل کھول کر پیسے خرچ کیے۔قطر ورلڈ کپ کی میزبانی کے اخراجات تقریباً 220 ارب ڈالر بتائے جارہے ہیں۔ہرعالمی کپ پر ہونے والے اخراجات، گزشتہ کے مقابلے میں عموماً زیادہ ہی ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی کپ کے انعقاد کے لیے زیادہ اخراجات کن چیزوں پر آتے ہیں؟جب فیفا کسی ملک کو میزبانی کے لیے نامزد کرتا ہے تو کئی سال پہلے نامزدگی کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اخراجات کا تخمینہ لگایا جاسکے۔ میزبان ملک اس سوچ کے ساتھ سرمایہ کاری کرتا ہے کہ اس عالمی کپ سے اس کی معیشت مضبوط ہوگی۔ ساتھ ہی دیگر ممالک بھی میزبان ملک میں منافعے کی غرض سے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔واضح رہے کہ کْل بجٹ میں وہ رقم بھی شامل ہوتی ہے جو ٹیموں، کھلاڑیوں اور فیڈریشنز کو انعامات کی مد میں دی جاتی ہے۔ ماضی میں جو عالمی کپ منعقد ہوئے ان کی تیاری کے لیے کافی بجٹ مختص کیا گیا تھا۔1990ء سے قبل، فیفا میزبان ممالک کے اخراجات نہیں بتایا کرتا تھا لیکن اب ایونٹ سے پہلے ہی کس چیز پر کتنا خرچہ آرہا ہے سب کی فہرست انٹرنیٹ پر باآسانی مل جاتی ہے ۔برازیل میں منعقد ہونے والے 2014 کے عالمی کپ میں اگرچہ میزبانی کا اعلان کافی عرصے پہلے کردیا گیا تھا ۔