کولمبو//یو این آئی// سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے کی پارٹی نے کہا کہ وہ اپنے ایک صوبائی لیڈر کے خلاف کارروائی کرے گی جس نے چینی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا اور بیجنگ سے سری لنکا کے قرض کی تنظیم نو کا مطالبہ کیا۔یہ اطلاع ڈیلی مرر نے پیر کو دی ہے ۔ ڈیلی مرر کے مطابق یونائیٹڈ نیشنل پارٹی (یو این پی) نے کہا کہ وہ مقامی حکومت کے رکن ششی ہیٹیاراچی کے خلاف کارروائی کرے گی۔ یو این پی کے ایک رہنما نے کہا کہ ہماری پارٹی کا اس احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہماری پارٹی سفارت کاری پر یقین رکھتی ہے اور ہماری حکومت چین کے ساتھ قرضوں کے مسائل کو سفارتی تعلقات کے ذریعے حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قرض کی تنظیم نو کا معاملہ وزیر خزانہ سے متعلق ہے نہ کہ ریاستی اسمبلی کے رکن سے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی جلد ہی فیصلہ کرے گی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے ۔ادھرویتنام میں 300 سے زیادہ سری لنکن پناہ گزینوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں واپس کولمبو واپس نہ بھیجیں اور اس کے بجائے انہیں کسی تیسرے ملک میں پناہ گزینوں کے طور پر بسایا جائے۔ ویتنام کے کوسٹ گارڈ نے منگل کے روز غیر قانونی سری لنکن تارکین وطن کو بچایا جو ویتنام اور فلپائن کے درمیان گہرے سمندر میں ایک جہاز کے ٹوٹنے کے بعد پر بہہ گئے تھے ۔یہ سری لنکن شہری میانمار سے کینیڈا جا رہے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔سری لنکا نے 303 افراد کی وطن واپسی کی درخواست کی ہے ۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ سری لنکا کے ان مسافروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے جنہیں 8 نومبر کو ویتنام کی ونگ تاؤ بندرگاہ پر بچایا گیا تھا۔