ایڈیلیڈ//یو این آئی// تو ہر طرح کی اگر اور مگر کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں 2022 کے ٹی20 ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کے لیے میلبورن پہنچ چکی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کا آغاز پاکستان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہوا لیکن اس خواب کے بعد ان کی آنکھ کھلی اور بابر اعظم کی ٹیم نے فائنل کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کامیابی سے عبور کیا۔ اب پاکستان اور ٹی 20 ورلڈ کپ کی ٹرافی کے درمیان صرف انگلینڈ ہے ، جو خود بھی اپنا دوسرا ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے کے لیے اتوار کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان کا سامنا کرے گا۔
پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی گیندبازی ان کی مضبوط پوائنٹ رہی ہے لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فخر زمان کی جگہ آنے والے محمد حارث نے ان کی بیٹنگ کو رفتار فراہم کی ہے ۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ڈیبیو کرتے ہوئے 21 سالہ حارث نے صرف 11 گیندوں پر 28 رن بنا کر اپنے ساتھیوں کو کھیل کے مختصر ترین فارمیٹ میں بیٹنگ کرنے کا طریقہ دکھایا۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی جہاں پاکستان کو مضبوط آغاز دینے کی صلاحیت رکھتی ہے وہیں حارث، افتخار احمد اور شاداب خان کی دھماکہ خیز بیٹنگ لائن اپ ٹیم کو بڑے اسکور کی طرف لے جانے کی ذمہ دار ہوگی۔ پاکستان بھی ان چند ٹیموں میں سے ایک ہے جس کے چار گیند باز 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندبازی کر سکتے ہیں۔ انجری سے واپس آنے والے شاہین آفریدی خواھ بھرپور فارم میں نہ ہوں لیکن حارث رؤف، محمد وسیم جونیئر اور نسیم شاہ کی اچھی کارکردگی بابر کے ہاتھ کو ورلڈ کپ ٹرافی تک پہنچادیں گی۔ دوسری جانب اپنے دوسرے سپر 12 میچ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلینڈ نے بھی ٹورنامنٹ میں اچھی واپسی کی ہے اور سیمی فائنل میں ہندوستان کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر حاوی ہونے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ انگلینڈ کی طاقت ان کی بیٹنگ ہے ۔