سید امجد شاہ
جموں//دائیں بازو کے دانشور پشپیندر کلشرسٹھا نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ایک ’جہادی ذہنیت والی خاتون‘ تھیں جنہوں نے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ رسانامیں عصمت دری اور قتل کیس گھڑلیا اور ایک بزرگ برہمن آدمی اور دیگر کو گورداسپور میں جیل بھیج دیا۔تاہم انہوں نے وزیر اعلیٰ کا نام نہیں لیا جس نے 2018 میں پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد کے حصہ کے طور پر جموں و کشمیر پر حکومت کی۔کٹھوعہ ضلع میں منعقدہ ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے دائیں بازو کے قومی مفکر/دانشور پشپیندر کلشرسٹھا نے کہا’’ایک اسلامی جہادی (ذہنیت والی) خاتون نے 2018 میں اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کی کہانی گھڑ لی اور ایک 65 سالہ غریب برہمن سانجی رام، پرویش کمار مانو اور دیپک کھجوریا کے خلاف مبینہ کیس میں الزامات لگائے‘‘۔اس پروگرام کا اہتمام راشٹریہ آرادھنا منچ نے کیا تھا۔انکاکہناتھا’’سانجی رام کو اس کے (اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے) مفادات (سیاسی فائدے) کے لیے غلط مقدمے میںپھنسایاگیا تھا۔ اس نے جو کرنا تھا وہ کیا لیکن ایم ایل اے کے طور پر انتخاب کے بعد وزیر بننے کے لالچ نے لیڈروں کی زبانوں کو بند کر رکھا ہے‘‘۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر بی جے پی لیڈروں کو اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر نشانہ بناتے ہوئے کہا کیونکہ جموں میں پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد میں حکومت کر رہی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ “تاہم، جن کو کسی قسم کی لالچ نہیں ہوتی وہ ناانصافی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس لیے میرا یقین ہے کہ جب بھی میں اگلی بار جاؤں گا تو سانجی رام ان کے گھر ہوں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ “جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ کریں گے کیونکہ ایک معصوم برہمن کو اس جہادی ذہنیت والی خاتون نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے عصمت دری کا ملزم بنایا جس کے والد (مرحوم سید مفتی محمد سعید) مظفرنگر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے اور ملک کے مرکزی وزیر داخلہ بن گئے تھے۔ کسی نے یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ جموں و کشمیر کا رہائشی مظفر نگر (یو پی) سے الیکشن لڑنے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ کیسے بن سکتا ہے۔ اس کی بیٹی کے دور میں ایک کمیونٹی کے جذبات کو کچل دیا گیا‘‘۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں بی جے پی۔پی ڈی پی اتحاد کی حکومت نے دو وزراء کو اس وقت برطرف کر دیا تھا جب انہوں نے رسانہ عصمت دری اور قتل کیس کے ملزمان کی حمایت کی تھی اور ریلیوں سے خطاب کیا تھا۔مختلف دیگر لوگوں کے ساتھ کلشریسٹھا نے رسانا گاؤں، مندر کا دورہ کیا اور ملزمین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔دریں اثنا، سوشل میڈیا پوسٹ میںدائیں بازو کے مفکر کلشریسٹھا نے لکھا کہ “جموں سے کٹھوعہ کے راستے میں رسانا مندر گیاجہاں کشمیری جہادی وزیر اعلیٰ نے 2018 میں عصمت دری کی کہانی گھڑ لی تھی، اس نے 65 سالہ سانجی رام، دیپک کھجوریا، پرویش کمار عرف مانوکو گورداسپور جیل بھیج دیا ۔میں نے ان کے گھر والوں سے ملاقات کی”۔
رسانا عصمت دری اور قتل کیس 2018 ‘جہادی ذہنیت والی عورت’ کے ذریعہ گھڑ لیا گیا: پشپندر کلشرستھا