نئی دہلی//پاکستان کرکٹ ٹیم کے سلامی بلے باز بابر اعظم اور محمد رضوان کی بہترین کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں بلے باز اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر میچ کے دوران بابر ناکام ہوتے ہیں تو محمد رضوان ٹیم کو جیت کی دہلیز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ وہیں دوسری جانب رضوان ناکام ہونے کی صورت میں بابر اعظم یہ ذمہ داری بخوبی اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں اور ٹیم کو جیت کے دروازے تک لے جاتے ہیں ۔ پاکستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری سہ فریقی سیریز میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں بابر کی ناکامی کے بعد رضوان نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک اینڈ پکڑا اور 156.00 کے اسٹرائیک ریٹ سے 50 گیندوں پر ناٹ آوٹ 78 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ رضوان کی اس عمدہ اننگز کی بدولت پاکستان بنگلہ دیش کے سامنے مقررہ اوورز میں 167 رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔ وہیں گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے یہ میچ 21 رنز سے جیت لیا ہے ۔ بنگلہ دیش کے خلاف اس عمدہ بلے بازی کیلئے رضوان کو ‘پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اس میچ کے بعد پاکستانی ٹیم کا دوسرا مقابلہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوا۔ اس میچ میں محمد رضوان جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ لیکن یہاں کپتان بابر اعظم نے اننگز کو سنبھالتے ہوئے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، جس کے لئے انہیں ‘پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا ۔ بابر اعظم اور محمد رضوان اپنے ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل کرکٹ کیرئیر میں بالترتیب سات اور آٹھ مرتبہ پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ اگر دونوں بلے باز اسی طرح کھیلتے رہے اور یہ خاص ایوارڈ حاصل کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب وہ سب سے زیادہ ‘پلیئر آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرنے کے معاملہ میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ کوہلی نے اپنے 106 ٹی ٹوینٹی بین الاقوامی میچوں میں 13 مرتبہ ‘پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ جیتا ہے اور وہ افغان کپتان محمد نبی کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر ہیں۔ وہیں روہت شرما نے 138 میچوں میں 12 مرتبہ یہ خصوصی ایوارڈ جیتا ہے۔ فی الحال بابر اور رضوان کا نام ٹاپ 10 کھلاڑیوں میں شامل نہیں ہے ۔