یو این آئی
جموں//جموں وکشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کی جانب سے پولیس سب انسپکٹر بھرتی عمل کے دوران تحریری امتحان میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کے بعد سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کی جانب سے چھاپہ ماری کے بعد اب باضابط طورپر ملزمان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ سی بی آئی نے کانسٹیبل ، ٹیچر سمیت تین ملزمان کو حراست میں لیا ہے، جبکہ بورڈ کے سابق ذمہ داروں کو بھی گرفتار کرنے کا قوی امکان ہے۔یاد رہے کہ سی بی آئی نے دھاندلیوں میں بلواسط یا بلاواسط طور پر ملوث 33افراد کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر درج کیا ہے۔ سی بی آئی نے ایس آئی امتحان میں ہوئی دھاندلیوں اور قبل از وقت ہی پیپر 30 لاکھ روپیہ میں فروخت کرنے کے معاملے میں پولیس کانسٹیبل سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
سی بی آئی نے پولیس کانسٹیبل رمن شرما اور سریش کمار اور اکھنور کے ایک اْستاد جگدیش شرما کو حراست میں کر اْ ن سے پوچھ تاچھ شروع کی۔سی بی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کے روز چھاپہ ماری کے دوران مذکورہ ملزمان کے گھروں سے کاغذات اور ڈجیٹل مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سروسز سلیکشن بورڈ میں تعینات کئی ملازمین بھی اس اسکنڈل میں ملوث ہیں اور اْنہیں بھی گرفتار کرنے کا قوی امکان ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سی بی آئی نے اس معاملے کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی اور ابھی تک صرف تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ بورڈ نے ایس آئی بھرتیوں کے لئے 27مارچ 2022کو تحریری امتحان لیا تھا۔سلیکشن لسٹ منظر عام پر آنے کے بعد ایک ہی گھر کے تین افراد کو لسٹ میں منتخب پایا گیا جس کے بعد لسٹ پر اْمیدواروں نے سوالات اْٹھائے۔جموں وکشمیر انتظامیہ نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تین نفری کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے ایک ہفتے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہاکہ واقعی میں ایس آئی بھرتی میں دھاندلیاں ہوئیں۔جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرانے کے احکامات صادر کئے۔پانچ اگست کو سی بی آئی نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی۔