جموں//عام آدمی پارٹی کی ترجمان نرمل مہنا نے جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر حکومت صحت کی دیکھ بھال کے اداروں کے تئیں غیر حساس رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اہم صحت اداروں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔انکاکہنا کہا کہ جموں صوبے کے زیادہ تر سرکاری میڈیکل کالج بغیر سربراہ کے ہیں اور باقاعدہ پرنسپلوں کے بنا کام چلایا جارہا ہے جس کے چلتے اداروں میں خدمات کافی حد تک متاثر ہو رہی ہے۔عام آدمی پارٹی کی ترجمان نرمل مہنا نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ جموں میں چھ سرکاری میڈیکل کالج ہیں جن میں جموں میڈیکل کالج، اکھنور آیورویدک کالج، کٹھوعہ میڈیکل کالج، ڈوڈا میڈیکل کالج اور کچھ ہی دنوں میں ادھم پور میں کھلنے والا میڈیکل کالج ہیعام آدمی پارٹی لیڈر نرمل مہنا نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ دو میڈیکل کالجوں یعنی راجوری میڈیکل کالج اور اکھنور آیورویدک میڈیکل کالج میں مہینوں سے کوئی باقاعدہ پرنسپل نہیں ہے اور جی ایم سی جموں کے پرنسپل ان دونوں عہدوں کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ جموں صوبے کے آدھے میڈیکل کالج اس وقت باقاعدہ پرنسپل کے بغیر ہیں اور معاملات مزید سنگین ہوسکتے ہیں کیونکہ کٹھوعہ اور ڈوڈا میڈیکل کالجوں کے پرنسپل اگلے دو مہینوں میں خدمات سے ریٹائرمنٹ حاصل کرنے والے ہیں۔ مہنا نے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری جموں صوبے کے پورے ذیلی علاقے میں ایک اہم صحت کا ادارہ ہے جسے پیر پنجال خطہ بھی کہا جاتا ہے اور یہ میڈیکل کالج نہ صرف جڑواں سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتا ہے بلکہ یہ ضلع ریاسی کے مریضوں کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے،جب جموں و کشمیر انتظامیہ ایسے اہم صحت کے ادارے کے تئیں بے حس ہے تو جموں و کشمیر کے شہری حکومت سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔انہوںنے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی نیند سے جاگ کر صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کی بہتری کے لیے کچھ عملی کام کریں تاکہ ایک عام آدمی کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو جو پرائیویٹ سیکٹر میں علاج کی استطاعت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس کے پاس سرکاری ہسپتال کے بنا کوئی دوسرا راستہ ہے ۔