سجاد احمد خان
دنیا کا کوئی جگہ ایسی نہیں، جہاں اُستاد،ٹیچر یا معلم کی اہمیت نہ ہو اور اس کی عزت نہ کی جاتی ہو۔ معاشرے میں سال کے جن ایام کو خصوصی درجہ حاصل ہے، اُن میں ’’یوم اساتذہ‘‘Teacher’s Dayبھی شامل ہے جو 5 ستمبر کو ہر سال ملک میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر اسکول و کالجس میں مختلف پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں، جلسے کئے جاتے ہیں، استاد کی اہمیت اور عزت کو پروان چڑھانے کی باتیں ہوتی ہیںاور معلم کے احترام کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ دن ہندوستان کے پہلے نائب صدر اور دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر سروے پلی رادھا کشنن کی یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے جوخود ایک معلم تھے اور اساتذہ کے معیارزندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں تھے،جو صدر جمہوریہ ہند ہونے کے باوجود بھی خود کو اُستاد کہلانا پسند کرتے تھے۔کئی اورشخصیات بھی تھیں جو معلم تھے اور صدر ِ ملک کے عہدے پر فائز تھے ،جن میں ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر شنکر دیال شرما، ڈاکٹرعبدالکلام کے نام قابل ذکر ہیں۔
یہ تصویر کا ایک رُخ ہے جو بلاشبہ کافی روشن ہے جبکہ دوسرا رخ اتنا ہی دُھندلا ہے۔ ماضی میں استاد کو معمار ِقوم تصور کیا جاتا تھا، جن کا قول و فعل صاف و پاک ہوا کرتا تھا۔ آج بھی ایسے معلم موجود ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر۔جبکہ اُستاد اور شاگرد کا باہمی رشتہ آج کے معاشرے میں کہیںدکھائی نہیں دیتا ۔ اُستاد کے احترام و تکریم و تعظیم پر تمام مذاہب نے زور دیا ہے ۔ اسلام نے تو معلم کی قدردانی جس طرح پیش کی ہے وہ کہیں اور ملتی ہی نہیں ۔ اسلام نے اللہ کے حقوق کے ساتھ والدین اور اساتذہ کے حقوق و احترام کرنے کی تلقین کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیاہے‘‘۔اس سے معلوم ہوا کہ معلم یعنی اُستاد کا مرتبہ کتنا اہم اور بلند ہے۔
لیکن افسوس! آج کل تصویر کا یہ پہلو اس کے برعکس ہے۔ آج ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ معلم جو کہ قابل احترام اور معمار قوم ہوتا ہے، انسانی قدروں کی دھجیاں اڑانے لگا ہے۔دنیا میں انمول رتن تراشے والےاساتذہ کی زیادہ تر تعدادمادہ پرست بن چکی ہے۔ آئے دن ملک کے اخبارات و نیوز چینلز سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں،جو اساتذہ کے غیر مہذبانہ سلوک،نازیبا حرکات یا دوسری سیاہ کاریوں کے متعلق ہوتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ چند افراد کے گھٹیا کارناموں سے تمام اساتذہ کو ایک ہی پلڑے میں تولا جائے بلکہ بہت سارے معلم آج بھی موجود ہیں جو سماج کی بہترین تشکیل اور نوجوانوں کی زندگیوں کو سنوارنے میں نمایاں کردار ادا کررہےہیں۔
آج ہم یوم ِ اساتذہ ضرور مناتے ہیں۔مگر ا سبات توجہ مرکوز نہیں کررہے ہیں کہ جہاںسرکاری اساتذہ کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے،وہیں پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے،جبکہ اُستادا ور شاگرد کا رشتہ جوماضی میں کافی مستحکم ہوا کرتا تھا،آ ج کافی کمزورپڑ چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ استاد کو شخصیت ساز اور معمارِ قوم سمجھ کر حاکم ِ وقت بھی معلم کےآگے سر خم رکھتے تھے۔ سکندر ِ اعظم کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ وہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ سفر کررہاتھا، راستے میں ایک دریا آیا تو دونوں میں یہ مشورہ ہوا کہ پہلے پانی میں اُتر کر کون اس کی گہرائی کا اندازہ لگائے۔ سکندر کی ضد تھی کہ دریا کی گہرائی ناپنے کا اُسے موقع دیا جائے، مگر ارسطوؔ، سکندر کو اس سے باز رکھتے ہوئے کہتا ہےکہ میں تمہار ا اُستاد ہوں، پانی میں پہلے میں اُتروں گا۔ سکندر برجستہ جواب دیتاہے، اُستاذِ محترم !اس عمل میں آپ کی جان بھی جاسکتی ہے، لہٰذا میں ہرگز یہ گوارہ نہیں کروں گا کہ دنیا آپ جیسے لائق استاد سے محروم ہوجائے، کیوں کہ سیکڑوں سکندر مل کر بھی ایک ارسطو پیدا نہیں کرسکتے جب کہ ایک ارسطوؔ سینکڑوں سکندر پیدا کرسکتاہے۔ سکندر کا یہ قول بھی بہت مشہور ہے کہ میرے والدین نے مجھے آسمان سے زمین پر اُتارا، جب کہ میرے اُستاد نے مجھے زمین سے آسمان کی بلندی تک پہنچا دیا۔
ظاہر ہےایک بچہ کی تربیت میں جو کردار ماں ادا کرتی ہے، وہی کردار بعد میں ایک استاد اداکرتاہے۔استاد صرف علم نہیں سکھاتابلکہ انسان کی شخصیت سازی (Personality Development)کاکام بھی کرتاہے۔ آج کے بچے کو کل کا مثالی شہری (Ideal Citizen)بناتاہے۔
استاد کی نگرانی میں ہی بچے جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہیں، اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی علم سیکھتے ہیں۔ گویامعلم کے بغیر تعلیم کی تکمیل نہیں ہوسکتی، وہ زندگی کے تمام معاملات میں ایک رہبرکا کام کرتاہے۔
آج ہمارا تعلیمی نظام چار عناصر پر قائم ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارہ میں ان چار عناصر کی بہتر ترتیب اور خوبصورت تال میل سے ہی اچھے اور خاطرخواہ نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ چار عناصر اساتذہ، طلبا، گارجین اور انتظامیہ ہوتے ہیں۔ یعنی ایک استاد کا اپنے شاگردوں، اُن کے سرپرستوں اور اراکین انتظامیہ سے تعلق اور عمدہ رابطہ رہنا چاہئے۔ خاص طورسے استاد اور شاگرد یا معلم اور متعلم کے رشتے کی بنیادی اہمیت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ دورِ جدید میں اس پر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ نظامِ تعلیم میں کسی اصلاح سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ استاد اور شاگرد کے رشتے میں بگاڑ کیوں پیدا ہواہے؟ گرہیں کہاں پڑگئی ہیں؟ اُلجھاؤ کہاں ہے؟ اور عقدہ کشائی کی صورت کیا ہے؟
جدید تعلیمی نظام اور نظریے پر غور وفکر سے قبل ان پر اثر انداز ہونے والے سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات پر بھی نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں یورپ میں صنعتی انقلاب آیا اور ساری دنیا پر اثر اندااز ہوا۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں مادیت اور لادینیت کا وہ سیلاب آیا کہ ہماری بہت سی اخلاقی و روحانی قدریں برباد ہوگئیں۔ قدیم تہذیبی بساط ہی الٹ گئی، ہمارا قدیم تعلیمی نظام بھی بدلا اور اسی کے ساتھ اُستاد اور شاگرد کا رشتہ بھی متاثر ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ جو محبت اور تعظیم کا رشتہ تھا،جو خلوص اور تعلق خاطر پر مبنی تھا، وہ کاروباری سطح پر آگیا۔ جب ساراماحول مادیت سے متاثر ہوا تو متعلم بھی یعنی ایک طالب علم کی منطق یہ ہوئی کہ میں نے اسکول کالج میں داخلہ لیا ہے، فیس اداکرتاہوں۔ اس لئے مجھے حق ہے کہ میں کلاس روم میں بیٹھوں اورلیکچر سنوں۔ میں کسی استاد کا مرہونِ منت اور احسان مند نہیں ہوں اور دوسری طرف معلم یعنی استاد بھی اسی ماحول کی پیداوارہے۔ ہم سب علم محض اس لئے حاصل کرتے ہیں کہ کسبِ معا ش کرسکیں۔ جس کی وجہ سے علم کے لئے جو ایک لگن اور پیاس ہونی چاہئے وہ باقی نہیں رہ پائی۔ نتیجتاًمجھےاپنے مضمون پر کامل دسترس نہیں ہوتی اور ایسے میں استاد اپنے عیوب چھپانے کے لئے علم وفضلیت کے لبادے اوڑھے اپنے شاگردوں کو ایک فاصلے پر رکھتاہے۔ طلبا ء سوال پوچھتے ہیں تو وہ انہیں دباتاہے اور رعب جماتاہے۔ ایسی صورت میں تو شاگردوں کی زبانیں چپ ہوجاتی ہیں مگر ان کے چہرے صاف بول رہے ہوتے ہیں کہ یہ آپ کے لئے زیبا نہ تھا۔ پھر ان کے دل میں استاد کے لئے محبت و تعظیم باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ شاگرد یہ سمجھتا ہے کہ میں نے فیس ادا کی ہے اور میں پڑھتا ہوں، استاد کا مرہون ِمنت نہیں ہوں ۔دوسری طرف استاد بھی پیشہ ور ہوگیا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے اتنی تنخواہ کے عوض اتنے گھنٹے کام کرنا ہے اور اس مقررہ مدت کے بعد طلبا ء کا مجھ پر کوئی حق باقی نہیں رہتاہے۔
چاہت اور اپنائیت کے اس اٹوٹ رشتے کو پھر سے قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔طلبا کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ اساتذہ سے فیض حاصل کرتے ہیں، اساتذہ ان کی ذہنی پرورش کرتے ہیں، وہ ان کے محسن ہیں اور شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے محسن کے سامنے انسان کی نگاہیں جھکتی رہیں۔ دوسری طرف استاد کا یہ سمجھنا کہ ان معین گھنٹوں کے بعد شاگرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ میرے دروازے پر دستک دے، صریحاً غیر اخلاقی ہے۔ شاگرد ان کی معنوی اولا دہیں، وہ اپنی طالب علمی کی زندگی ہی میں نہیں بلکہ عمر بھر یہ حق رکھتاہے کہ جب بھی اُسے کوئی الجھن پیش آئے تو وہ اُستاد کے دروازے پر دستک دے اور اس کا مشورہ حاصل کریں۔ ابتداء میں شفقت و تعظیم کی بات آئی تھی، استاد اور شاگرد کے رشتے کی یہ ایک بنیادی کڑی ہے۔ مگر یہ جاننا چاہئے کہ شفقت و تعظیم لازم وملزوم ہیں۔ کبھی تعظیم سے شفقت پیدا ہوتی ہے اور کبھی تعظیم شفقت کو جنم دیتی ہے۔ شفقت و محبت وہ چیز ہے کہ اس سے برف کے سلوں اور پتھر کی چٹانوں کو پگھلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ خلوص ومحبت ہمیشہ دلوں کو فتح کرتے ہیں اور جو دلوں کو فتح کرلیں، وہی فاتح ِ زمانہ کہلاتے ہیں۔ استاد وشاگرد کے رشتوں کی تمام پیچیدگیاں شفقت و تعظیم کے آزمودہ نسخے سے ہی دور ہوسکتی ہیں۔
آج کے دن میں اپنے تمام اساتذہ کا ایک بار پھر شکر بجا لاتا ہوں ،جنہوں نے اپنے توجہات سے ہمیں کسی محفل میں بیٹھنے لائق بنایا ہے۔ خصوصََا اپنی پہلی درسگاہ مشاء ماڈل ہائی اسکول ریپورہ (Mesha Model High School Repora)کے قابل و غیور اساتذہ کا ہمیشہ مرہونِ منت رہوں گا۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے مقربین میں سے بنائے،آمین ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حقیقی معنوں میں اس رشتہ کی قدردانی کی توفیق عطاء کرے۔آمین یا ربّ العالمین
(متعلم۔ مشاء ماڈل ہائی اسکول ریپورہ گاندربل)
[email protected]
اَساتذہ۔قوموںکےمعمار