اسلام آباد// پاکستان میں بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے بلوچستان میں اب تک 230 افراد جاں بحق ہوچکے ہیںصوبائی محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ بیان اعلامیے کے مطابق یکم جون سے اب تک بلوچستان میں پری مون مون سون اور مون سون بارشوں سے مرنے والے 230 افراد میں 110 مرد، 55 خواتین اور 65 بچے شامل ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق زیادہ تر اموات بلوچستان کے اضلاع بولان، کوئٹہ، ڑوب، کیچ، دکی، خضدار، کوہلو، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں ہوئیں۔ بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات میں 98 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ ایک لاکھ 7 ہزار 377 مال مویشی ہلاک ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 26 ہزار 897 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے 7 ہزار 267 مکانات مکمل طور پر منہدم اور 19 ہزار 630 مکانات کو جزوی متاثر ہوئے۔اس کے علاوہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے صوبے کے مختلف علاقوں میں 18 پلوں اور 710 کلو میٹر پر محیط شاہراہوں کو نقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ اضلاع کوئٹہ، جعفر آباد، نصیر آباد، زیارت، دکی اور صحبت پور میں 555 خیمے، 650 فوڈ پیکٹس، 50 کمبل، 100 چٹائیاں اور 50 مچھر دانیاں تقسیم کی گئیں۔خیال رہے کہ پاکستان میں رواں سال مون سون سیزن کے دوران معمول سے زائد بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے چاروں صوبے اور گلگت بلتستان متاثر ہوا ہے۔