تہران //سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کچھ اہم مطالبات سے دستبردار ہو گیا ہے جس کی بدولت معاہدہ جلد طے پانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ امریکا کا مقصد یورپی یونین کی طرف سے تجویز کردہ معاہدے کے مسودے کا جلد جواب دینا ہے تاکہ ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کیا جا سکے جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک کر دیا تھا البتہ موجودہ صدر جو بائیڈن اس کی بحال کے لیے کوشاں ہیں۔ایک سینئر امریکی عہدیدارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگرچہ تہران کہتا رہا ہے کہ واشنگٹن نے معاہدے میں کچھ رعایتیں دی ہیں لیکن ایران کچھ اہم مطالبات سے پیچھے ہٹ گیا ہے، وہ گزشتہ ہفتے آئے تھے اور معاہدے کی راہ میں حائل اصل رکاوٹ کو دور کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب ممکنہ معاہدے کی جانب پیش قدمی کررہا ہے اور وہ ایسی شرائط پر رضامند ہو گئے ہیں جو صدر بائیڈن کو بھی منظور ہوں گی، ا?ج اگر ہم معاہدے کے قریب ا?ئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے پیش قدمی کی ہے، انہوں نے اس مسئلے پرسر تسلیم خم کیا جس پر وہ ابتدا سے ڈٹے ہوئے تھے۔ایران کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔عہدیدار کاکہنا تھا کہ ایران اپنے اس مطالبے پر مصر تھا کہ امریکا پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے نکالے لیکن ہم نے کہا کہ یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے، وہ مسلسل اصرار کرتے رہے لیکن ایک ماہ قبل ان کے رویے میں نرمی ا?ئی اور انہوں نے کہا کہ ا?پ ا?پ دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں برقرار رکھ سکتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں پاسداران انقلاب سے منسلک متعدد کمپنیوں سے یہ پابندی ہٹائی جائے لیکن ہم نے کہا کہ ہم ایسا بھی نہیں کریں گے۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم ایک مضبوط اورپائیدار معاہدے کے خاطر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔