جموں//اتحاد بین المسلمین جموّںکاایک اجلاس یہاںعباس منزل جموں میںزیر صدارت پروفیسر ظہورالدین سابقہ صدر شعبہ اْردوجموں یونیورسٹی منعقد ہوا۔ اجلاس میں جموں خطے میں فرقہ پرستوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی پرانتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی پراظہارے تشویش کرتے ہوئے کہا برمی مہاجرین کی آڑ میں فرقہ پر جموں کے ماحول کو خراب کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں جو نہایت ہی افسوس ناک اور غیراخلاقی عمل ہے اس کے خلاف سرکار کو کارروائی کرنی چاہیئے۔انہوں نے کہا یہ لوگ ریاست جموں کشمیر میں صرف چھ یا سات ہزار کی تعداد میں ہیں جبکہ باقی غیرملکی مہاجرین کی یہاں تعداد لاکھوں میں ہے۔اس لئے سبھی مہاجرین کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جا نا چاہے۔ہم اس سلسلہ میں دیگرغیر مسلم بھائیوں کی حمایت سے احتجاجی پروگرام کریں گئے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ برمی مہاجر مسلمانوں کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔اس پر سیاست کے بجائے انسانی قدروں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ریاسی کے مقام پرگئو بھگتی کے نام پرفرقہ پرستوں کی کھلے عام دہشت گردی کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے سرکار پر زور دیاہے۔ان تمام فرقہ پرستوں کے خلاف سخت کاروائی کرے جنہوں نیراہ چلتے مسافرگوجروں کے ساتھ مارپیٹ کی ہے اورآیندہ اس قسم کے واقعات رونما ہونے سے روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرئے۔مقررین نے کہا یہاں کی اکثریت انسان دوست ہے اور وہ سب ہی ان فرقہ پرستوں سے بیزار ہیں۔ہمیںآپسی بھائی چارہ قائم رکھتے ہوئے فرقہ پرستوں کولگام دینے کیلئے متحدہوکر کام کرنا ہوگا۔اور ہمیں مظلوم برمی مہاجرین کی امداد کرنی چاہیئے کیونکہ جموں میں صرف برمی مہاجرین ہی نہیں ہیں۔یہاں مختلف ملکوں کے علاوہ لاتعداد غیر ریاسی باشندے بھی موجود ہیں۔یہاں کی حکومتوں نے جموں میں غیر ریاستی باشندوں کو تو آباد کیا ہے مگر یہاں کے ریاستی باشندے گوجر اور بکروالوں کو آج بھی اجاڑنے کا سلسلہ جاری ہے جو انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔سرکار کو چاہیے سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔اور اگر یہاں سے مہاجرین کو نکالناہی ہے تو سبھی غیر ریاستی اورغیر ملکی مہاجرین کونکالا جائے۔ اگرچہ برمی مہاجرین جموں میں غیرقانونی طور پر نہیں رہ رہے ہیں۔ان کے پاس(UNHCR) کا کارڈ ہے۔اورمرکزی سرکار کی اجازت سے ملک کے باقی حصوّں کی طرح جموں کشمیر میں بھی رہتے ہیں۔موسمی حالات اوروادی کے خراب حالات کی وجہ سے جموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔اس لئے ان کے مسئلہ پرسیاست کرنے کے بجائے انسانی بنیادوں پر باقی دیگر مہاجرین کی طرزپر غور کیا جا ناچاہے۔اگر یہاں سے مہاجرین کو نکالنا ہی ہے تو پھر سب ہی غیر ملکی اورغیر ریاستی مہاجرین کو نکالا جا ناچاہے۔انہوں نے کہا یہاں ہمارے بہت سارے غیرمسلم بھائی ان لوگوں کی امداد میںانسانی بنیادوں پر پیش پیش ہیں۔مقررین نے ریاست اور بیرون ریاست میں آرایس ایس کی بڑھتی فرقہ پرستی پر اظہار تشویش کرتے ہوکہا کہ برمی مسلمان مہاجرین کوبھگواتنظیموں نے جموں میں قافیہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا ہے یہ عمل انتہائی افسوس ناک اورقابل مذمت بھی ہے۔ہمیں اس صورتحال کا مقابلہ دیگر غیرمسلم بھائیوں کے تعاون سے نہایت ہی زمہداری اورحالات کومددِنظر رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔اس بعد ہی کوئی لاعمل اختیا کرنا ہوگا۔مقررین نے کہا آج جموں کا مسلمان ان فرقہ پرستوں کی بیان بازی سے گھبرانے والا نہیں ہے۔اگر چہ ہم امن چاہتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگیز نہیں کہ ہم فرقہ پرستوں سے ڈرتے ہیں۔مقررین سرکار پر جموں میں امن اور سکون بنانے کے لئے فرقہ پرستانہ بیان بازی کرنے والوں کو لگام دے۔اور برمی مہاجرین کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے سے پہلے ریاست میں غیر قانونی طور پرآباد لاکھوں غیرملکی اور غیرریاستی مہاجرین کو بھی مدِنظر رکھے۔ مقررین نے بی جے پی کے ریاستی وزیرگنگا پرشاد کے فرقہ پرستانہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہو کہا جہاں ایک کابینہ وزیر اس قسم کے غیر زمہ دارانہ اور فرقہ پرستانہ بیان دیتے ہوں وہاں کس سے انصاف کی اْمید کی جاسکتی ہے۔بی جے پی کے ترجمان رام مہادھو کے حالہ بیان کی بھی مقررین نے شدید الفاظ میں مذمت کر ئے اْسے سیاسی دیولیہ پن سے تعبیر کیا ہے۔پروفیسر ظہورالدین صاحب نے اختتامی خطاب میں فرمایا برمی مہاجرین کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔اس پر بلاوجہ سیاست کی جارہی ہے۔فرقہ پرستوں طرف سے جو بیان بازی اور شعلہ بیانی ہورہی ہے۔وہ یہاں کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ّ اگر سرکار نے مناسب کاروئی نہ کی تواس کی قیمت ہم سب کو چکانی پڑے گی۔اس لئے ہم سب کی زمہ داری بنتی ہے۔حالات کوخراب ہونے سے بچانے کیلئے اپنے غیر مسلم بھایئوں کو ساتھ ملا کر فرقہ پرستوں کے خلاف متحد ہوجایں۔انہوں نے ریاسی کے مقام پرگئو بھگتی کے نام پرفرقہ پرستوں کی کھلے عام دہشت گردی کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے سرکار پر زور دیاہے۔ان تمام فرقہ پرستوں کے خلاف سخت کاروائی کرے جنہوں نیراہ چلتے مسافرگوجروں کے ساتھ مارپیٹ کی ہے۔پروفیسر صاحب نے وادی کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتیہوئیارباب اقتدارسے مطالبہ کیا ہے انسانی حقوق کی پالی فوراً بندکی جائے اوربات چیت کا سلسلہ شروع کیا۔جائے تشددسے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے سرکار پر فرقہ پرستوں کو روک لگانے پرزور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بار یہاں حالات خراب ہوئے تو پھر ان کو کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا یہ سرکار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور فرقہ پرستوںکو فوری طور پر لگام لگائی جانی چاہے۔انہوں نی کہاسرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ باقی مہاجرین کی طرح برمی مہاجرین کو بھی تحفظ فراہم کرکے یہاں کے ماحول کوخراب ہونے بچائے۔ پروفیسر ظہورالدین نے سرکار کوخبردار کیا ہے کہ برمی مہاجرین پریک طرفہ کاروائی نہ کرئے۔کیونکہ یہاںجو لاکھوں غیرملکی اور غیرریاستی مہاجرین آباد ہیں سب غیر قانونی ہیں۔قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے،۔اجلاس سے خطاب کرنے والوںمیںمحمدشریف سر تاج صدرمسلم ایکشن کمیٹی جموں ، ایڈووکیٹ جمیل کاظمی ،پروفیسراسد اللہ وانی ،چوہدری اخترحسین جنرل سیکرٹری گوجربکرول اصلاحی کمیٹی جموں کشمیر۔ڈاکٹر عبدالرشید سابق ڈاریکٹر،پروفیسر شیخ محمدایوب ،سابق سیکرٹری بورڈ آف سکول ایجوکیشن جموںوکشمیر،پروفیسرشجاعلی خان،سیدخرشید حسین کاظمی سابق چیف کنسرویٹر فارسٹ،ایڈووکیٹ چوہدری ظفراقبال،مشتاق احمد،شیخ ظہوراحمد،خاقان احمد ملک ،ارشاداحمد ملک، مشتاق احمد خان شامل ہیں۔