جموں//عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کئے جانے پر برہم ، جسٹس تاشی ربستان نے آج ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جموں کی تنخواہ بند کرنے کے علاوہ ڈائریکٹراور محکمہ تعلیم کے کمشنر سیکرٹری کو اگلی سماعت پر عدالت میں طلب کر لیا ہے ۔فاضل جج نے یاد دلایا کہ پچھلی سماعت پر عدالت ہذا نے ریاستی چیف سیکرٹری کو ہدایت دی تھی کہ وہ تمام محکمہ جماعت کے سربراہان کے نام ایک سرکیولر جاری کر کے انہیں عدالتی احکامات پر معیاد بند ڈھنگ سے عملدرآمد کرنے کا پابند بنائیں تاکہ مدعیان کو مزید ذہنی کوفت اور مالی خسارہ سے دوچار نہ ہونا پڑے لیکن چیف سیکرٹری نے اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہ کی۔ معزز عدالت نے چیف سیکرٹری کو ہدایت دی کہ وہ 18اپریل کو جاری ہدایات پر عملدرآمد کرکے چار ہفتہ کے اندر رپورٹ پیش کریں بصورت دیگر اصالتاً حاضر عدالت ہوکر اپنا موقف بیان کریں۔ جمعہ کے روز جب معاملہ سماعت کے لئے پیش ہوا تو جسٹس تاشی ربستان نے پایا کہ نہ تو ہدایات کے مطابق کوئی سرکیولر جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی چیف سیکرٹری اصالتاً یا وکالتاً حاضر ہیں اور اس پر طرہ امتیاز یہ کہ عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کیا گیا ہے ۔البتہ مدعیان علیہ کی طرف سے ایک عرضی دائر کر کے اس دلیل کے ساتھ سماعت کو مؤخر کرنے کی استدعا کی گئی ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں پٹیشن دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نے تنخواہ بند کئے جانے کی اس دلیل کے ساتھ مخالفت کی ہے کہ اس نے یہ عہدہ گزشتہ28اپریل کو ہی سنبھالا ہے جب کہ عدالت کا فیصلہ 24ستمبر2015کو آیا تھااور توہین عدالت کا معاملہ 18اپریل 2017کو درج ہوا۔ جسٹس تاشی ربستان نے اس بات کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے کہ حکام بجائے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حیلے بہانے تلاش کئے جا رہے ہیں اور عرضی دائر کر کے اس دلیل کے ساتھ توہین عدالت معاملہ پر سماعت کو موخر کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے کہ حکومت پٹیشن دائر کرنے جا رہی ہے جب کہ ابھی تک عدالت عظمیٰ میں کوئی پٹیشن بھی دائر نہیں کی گئی ہے سٹے کا کہنا ہی کیا؟عدالت نے اسے کھلم کھلا توہین عدالت قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر چہ نو تعینات شدہ ڈائریکٹر کی تنخواہ واگزار کر دی جائے لیکن سابق ڈائریکٹر ایجوکیشن ، جہاں کہیں بھی تعینات ہوں، کی تنخواہ بند رکھی جائے ۔