قاہرہ //مصر کی ایک اپیل کورٹ نے کل ہفتے کے روز معزول صدر محمد مرسی ، ان کی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام سمیت 25 رہ نماؤں کی جنگجوقرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف دائر کردہ اپیل مسترد کردی ہے۔ اطلاعات کیمطابق معزول صدر محمد مرسی پر فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے لیے جاسوسی کے الزام کو برقرار رکھا گیا ہے اور اس الزام میں انہیں جنگجوئوںکی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اخوان المسلمون تکفیری گروپوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ملک کی مغربی سرحد سے صحرائی راستوں سے اسلحہ اور گولہ بارود مصر اسمگل کرنے میں بھی اخوان کا ہاتھ ہے۔ نیز ملک کے اقتدار پرقبضے اور اختیارات کے حصول کے لیے اخوان المسلمون کی طرف سے افواہیں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔پراسیکیوٹر کی سفارش پر محمد مرسی، محمد بدیع، خیر الشاطر، محمد سعد الکتاتنی، عصام العریان، سعد الحسینی، حازم فاروق، عصام الحداد، محی حامد، ایمن علی سید، صفوت حجازی، خالد سعد حسنین، جہاد الحداد، محمد فتحی، رفاعہ الطھطاوی، اسعد محمد الشیخہ، محمد البلتاجی اور دیگر کے خلاف دائر مقدمات فوجی عدالتوں کے حوالے کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ مصر کی عدالتون سے اخوان المسلمون کے رہ نماؤں کو سزائیموت اور طویل قید سمیت کئی دیگر سزائیں بھی سنا رکھی ہیں۔ ان میں دہشت گردوں کی مدد کرنے اور اپنے مقاصد کے لیے جنگجو تنظیموں کو استعمال کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔ معزول صدر محمد مرسی اور جماعت کی قیادت نے دہشت گردی میں ملوث کیے جانے کے الزامات اپیل کورٹ میں چیلنج کئے تھے تاہم اپیل عدالت نے بھی ان کا موقف مسترد کردیا ہے۔