واشنگٹن/سیول//امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو من مانی جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا اور یہ بات پیونگ یانگ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ خود کو خطرے میں ڈال رہا ہے کیونکہ پوری دنیا اس کے خلاف متحد ہوگئی ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کل شمالی کوریا سے اور کسی میزائل کا تجربہ نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ اب اسے افراتفری جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔شمالی کوریا کی جانب سے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کرتے ہوئے محترمہ ہیلی نے کہاکہ یہ اشتعال انگیز حرکت ہے ۔ انہوں نے شمالی کوریا سے مزید کوئی بھی میزائل لانچ نہ کرنے کی اپیل کی۔امریکی صدر ڈونالڈ نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربہ کے بعد منگل کے روز وارننگ دی کہ میزائل حملے کا جواب دینے کیلئے ان کے سامنے تمام متبادل کھلے ہوئے ہیں۔پیونگ یانگ کی جانب سے داغی گئی میزائل شمالی بحرالکاہل میں گرنے سے قبل جاپان کے اوپر سے گزری۔ جوہری اسلحہ سے لیس شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے پر جاپان حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔وزیر اعظم شنزو آبے نے اس پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے لئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے شمالی کوریا کی اس کارروائی کو غیرمتوقع، سنگین اور زبردست خطرہ قرر دیا۔امسٹر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا کو شمالی کوریا کی جانب سے تازہ ترین پیغام زور سے اور واضح طور پر مل گیا ہے ۔ اس حکمراں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں اور اقوام متحدہ کے تمام اراکین کے لئے خطرہ ہے ۔ لیکن شمالی کوریا کی اس کارروائی کا جواب دینے کیلئے ہمارے سامنے تمام متبادل کھلے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اس مسئلے پر جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے سے فون پر بات چیت کی۔ دونوں لیڈر اس بات پر متفق ہوئے کہ شمالی کوریا ایک سنگین خطرہ ہے اور امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا اور دنیا کے تمام ممالک کیلئے راست خطرہ بڑھ رہا ہے ۔