بنی //ضلع کٹھوعہ کی تحصیل بنی میں برسوں سے جاری بجلی کی قلت دور نہیں ہو رہی ہے ۔وقت کے ساتھ یہ سلسلہ کم ہونا چاہیئے تھا لیکن اس ترقیاتی دور میں بنی ویلی میں بجلی کی قلت میں اضافہ ہی ہو تاچلاجارہاہے۔ اگر یوں کہیں کہ بجلی آئی اوربجلی چلی گئی پوری بنی ویلی میں یہ آنکھ مچولی کاسلسلہ محکمہ کی جانب سے جاری ہے۔بنی شہر میںدن میں کم از کم پانچ گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دیہاتوں میںاس سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نے بنی ویلی کی کثیر آبادی کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔لوگوں کاکہناہے کہ انتہائی غور و خوذ کے باوجود ہم کسی نکتے پر آج تک نہیں پہنچ سکے کہ بنی ویلی کی عوام کو سہولیات پہنچانے میںحکومت کیوں لیت ولعل کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے ۔ بجلی، پانی، سڑکیں، راشن وغیرہ کی عدم دستیابی کے باعث لوگ بے حد پریشان ہے جہاں ایک طرف سرکاریں لوگوں کو بہترین بنیادی سہولیات کی فراہمی کے دعوے کرتی ہے لیکن زمینی حقائق کو دیکھیں تو کچھ اور ہی حقیقت ہوتی ہے ۔ان سیاستدانوں کے وہ لوگوں کودی گئی یقین دہانی کے جھوٹے وعدے زمینی سطح پر اکثر کھوکھلے ہی ثابت ہوتے ہیں ۔ وہیں انتظامیہ کی نیند تو تب کھلتی ہے جب لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنے مسائل کو لے کر احتجاج کرتے ہیں بنی ویلی میں درجنوں اسٹیشن ہیں جو کئی مہینوں سے بند پڑے ہوئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق جن میں جورہن ماتا ایک سال سے بند ہے ۔کوٹ میں ٹرانسفارمر چار ماہ سے بند ہے، بھنڈھار فسٹ تین ماہ سے بند ہے اور بگلیت سرتھلی اور سورجن میں ٹرانسفر دو ہفتوں سے خراب ہوئے ہیں جسکی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں تاہم محکمہ بجلی ٹس سے مس نہیں ہے ۔ان علاقوں کے مقامی، شوشیل کمار، کمر دین، بھولہ رام، غیان چند نے بتایاکہ کئی بار معتعلقہ انتظامیہ کو اس کی جانکاری دی گئی لیکن یقین دہانی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ کہ نا جانے کیوں انتظامیہ بجلی کی قلت میں لوگوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر انتظار کر رہی ہے اور محکمہ بجلی عوام کی بھاری مانگوں کے باوجود غفلت شعاری کے چلتے خواب غفلت کی حالت میں ہے۔علاقہ کے عوام نے ریاستی بجلی وزیر سے اس سلسلہ میں خصوصی طور سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرف فوری توجہ دیں اور علاقہ میں خصوصی طور بجلی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکموں کو ہدایت دیں۔انہوں نے کہاکہ اگر جلد از جلد مسائل کا ازالہ نہیں کیا گیا تو علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔