واشنگٹن//گروپ-سیون کے لیڈروں نے شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کے ذریعہ لگائی گئی پابندی کے حوالہ سے کہا ہے کہ پیانگ یانگ پر دباؤ ڈالنے کیلئے ہر ممکن اقدام کئے جائیں گے ۔یہ اطلاع جاپان کے سینئر مالیات نے دی۔جاپان کے ڈپٹی فنانس منسٹر ماساتاؤ اساکاوا نے کہا کہ جی-20میں اکٹھا ہونے کے بعداب جی-سیون نے بھی ج شمالی کوریا کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کیلئے ان ممالک نے رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں جو بھی ممکن ہوسکا ،پیانگ یانگ کے خلاف کیا جائے گا۔ دریں اثناء متحدہ عرب امارات نے شمالی کوریا سے سفارتی تعلقات ختم کردیے۔اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے شمالی کوریا سے سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پیانگ یانگ سے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا لیا ہے جب کہ شمالی کوریا کے شہریوں کو یو اے ای کے ویزے کا اجراء روک دیا گیا ہے۔ اماراتی حکومت نے شمالی کوریا کے کمپنیوں کو نئے لائسنس جاری نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں مسلسل اضافے اور خطرناک کیمیائی میزائل تجربہ کو سفارتی تعلقات ختم کرنے کی وجہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کے ساتھ ساتھ اماراتی حکومت کو بھی شدید تشویش ہے۔شمالی کوریا کے سخت حریفوں جنوبی کوریا اور جاپان نے خلیجی ریاستوں پر زور دیا تھا کہ وہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے ممالک میں داخل ہونے سے روکیں۔گزشتہ ماہ کویت اور قطر نے بھی شمالی کوریا کے شہریوں کو ویزے کی فراہمی روک دی تھی۔کویت نے شمالی کورین سفیر کو ایک ماہ کی جبری رخصت پر بھیجتے ہوئے نئے ویزوں کا اجرا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ قطر نے بھی شمالی کوریا کے شہریوں کو ویزوں کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کی یو اے ای میں ایک اندازے کے مطابق 13سو کے لگ بھگ شمالی کورین باشندے مقیم ہیں جب کہ کویت میں قریباً2500اور قطر میں 1000شمالی کورین شہری موجود ہیں۔ دریں اثناء جنوبی کوریا کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے نیوکلیائی تجربہ گاہ کے نزدیک آج زلزلہ کے ہلکے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔جنوبی کوریا کے محکمہ موسمیات کے مطابق یہ جھٹکے شمالی کوریا کے ذریعہ گزشتہ ستمبر میں شروعاتی دنوں میں کئے گئے چھٹے اور سب سے زیادہ طاقتورنیوکلیائی تجربہ کے بعد پہلی بار محسوس کئے گئے لیکن یہ انسانوں کے ذریعہ تیار کئے جھٹکے نہیں تھے ۔