اقوام متحدہ//اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیوگوتریز نے مختلف ممالک میں جاری جھڑپوں اور بڑی آبادی کے بھوکے مرنے کے آپسی تعلقات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اصل وجہ مخالفین دھڑوں میں ہونے والا آپسی تنازع ہے ۔مسٹر گوتریز نے سلامتی کونسل میں کہا کہ کسی ایک ملک میں ہونے والا تنازع دوسرے ملک میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے جس سے کھانا ،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی مانگ بڑھنے لگتی ہیں۔اس سے استحکام اور سلامتی کے شعبوں میں دقتیں شروع ہوجاتی ہیں۔دراصل اس وقت یمن ،صومالیہ،جنوبی سوڈان،اور شمال مشرقی نائجیریا میں مخالفین گروپوں اور سرکار حامیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور اس وجہ سے ان ممالک کی بہت بڑی آبادی کو قحط اور بھکمری کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔انہوں نے کہا کہ دفاع و بچاؤ ہمیشہ ہی اچھا رہتا ہے لیکن ہمیں ان اسباب پر بھی دھیان دینا چاہئے جن کی وجہ سے تناؤ اور جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ان ممالک میں بھکمری کے حالات پر کافی حد تک قابو پالیا گیاہے لیکن اب بھی کافی کچھ کیا جانا باقی ہے ۔انہوں نے نائجیریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں راحت ایجنسیوں کو بوکو حرام جیسی تنظیم کی وجہ سے کئی دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے اور اس بارے میں سرکار اور دیگر ایجنسیوں کو بتادیا گیاہے کہ بحران کا حل نکالنے کیلئے ایک علاقائی پالیسی بنائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ یمن میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ سرکاراور باغی گروپوں کے درمیان امن و امان بنائے رکھنے پر دیا جانا چاہئے ۔یمن میں بھی حالات ایسے ہی ہیں ،جہاں اجناس غیر محفوظ ہیں اور مہاجرین بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھر رہے ہیں۔رائٹر