واشنگٹن //شام کے صوبے ادِلب میں روسی فوجی طیارے کے سقوط اور اس کے ہواباز کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد ہی واشنگٹن کی جانب سے اْن دعوؤں کی تردید سامنے آ گئی جن کے مطابق امریکا نے شام میں کسی فریق کو کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے طیارہ شکن میزائل فراہم کیے۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نیوورٹ نے ہفتے کی شام بتایا کہ واشنگٹن نے شام میں قطعا کسی بھی جماعت کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فراہم نہیں کیے جو کندھے پر رکھ کر چلائے جاتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ان کے ملک کو شام میں اس نوعیت کے ہتھیاروں کے استعمال پر گہری تشویش ہے۔ نوورٹ کا مزید کہنا تھا کہ اس تشدد کا حل یہ ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو جنیوا مذاکرات کے عمل کی طرف لوٹا جائے۔ ترجمان نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمّے داریوں کو پورا کرے۔واضح رہے کہ شامی مزاحمتی تنظیم ہیئہ تحریر الشام نے ہفتے کی شام اِدلب کے دیہی علاقے میں روسی فضائیہ کا ایک فوجی طیارہ سوخی 25 مار گرایا تھا۔ تنظیم کے دعوے کے مطابق اس کے ایک جنگجو نے طیارہ شکن میزائل کے ذریعے براہ راست اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ادھر روسی خبر رساں ایجنسی اِسپَٹنِک نے پیٹناگون کے ترجمان ایرک بیہون کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے شام میں اپنی کسی بھی حلیف فورس کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار فراہم نہیں کیے اور مستقبل میں بھی وہ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ترجمان نے واضح کیا کہ امریکا اس نوعیت کے ہتھیار کے استعمال کے حوالے سے تحقیقات کرے گا تا کہ اپنے شراکت داروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔