پونچھ//قصبہ پونچھ میں ناجائز تجاوزات کی وباپر تمام تر کوششوں کے باوجود بھی قابو نہیں پایاجاسکا اور انتظامیہ کی کارروائی کے ساتھ ہی دوبارہ سے دکاندار اور ریڑھی فروش پھر سے سڑک پر قبضہ کرلیتے ہیں ۔قصبہ میں ناجائز تجاوزات روز انہ کا معمول بن گیا ہے۔ سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں ہر طرف ناجائز تجاوزات کی بھرمار نظر آتی ہے۔ قصبہ میںمنصوبہ بندی نام کی چیز ہی نہیں اور رہی سہی کسر ان ناجائز تجاوزات نے پوری کر دی ہے۔ ناجائز تجاوزات اس قدر ہیں کہ بازاروں میں پیدل چلنا تک محال ہو گیا ہے اور اس وبا نے ایک مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ایسا کرنے والے کسی قانون کے تابع بھی نہیں ۔ انتظامیہ کی کارروائی کے وقت یہ مافیا کبھی غربت اور بے روز گاری کو اس کا جواز بناتا ہے تو کبھی انسانی حقوق کی پاسداری آڑھے آ جاتی ہے۔ پونچھ قصبہ میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو سرکاری اور نجی زمینوں پر قابض ہو جاتے ہیں ۔ پونچھ قصبہ کے تاریخی قلعہ کو ہی اگر دیکھاجائے تو وہاں کچھ سال میں حد سے زیادہ تجاوزات کی گئیںجس کی وجہ سے آثار قدیمہ کا شاہکار قلعہ اور اس کی خوبصورتی متاثر ہو کر رہ گئی ۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں کاکہناہے کہ بعض اوقات ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف مہم شروع تو کی جاتی ہے مگر خلوص اور لگن کی کمی کیوجہ سے مصلحتوں اور مجبوریوں کی بْنیاد پر اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ایک موثر اور منظم مہم کے طور پر اس وباء کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔