راجوری //راجوری میں ’روٹیشنل ‘بنیاد پر اے ڈی سی پوسٹوں کے حکومت کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے انتباہ دیاکہ اگر ان اعلانات پر عمل کیاگیا تو احتجاج کیاجائے گا۔این سی لیڈران نے قبائلی امور محکمہ کی میٹنگ کے منٹس میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اس سے متعلقہ حکام کی ناقص کارکردگی کا پتہ چلتاہے۔پریس کلب راجوری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر ایڈووکیٹ چوہدری لیاقت علی نے کہاکہ کوٹرنکہ ۔ کالاکوٹ اور نوشہرہ ۔سندر بنی کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ روٹیشنل بنیاد پر دینے کافیصلہ نظام کا تمسخر اڑانے جیسا ہوگا ۔اس موقعہ پر پارٹی کے ضلع صدر راجوری شفاعت خان ، نرمان سنگھ اور ایڈووکیٹ نسیم چوہدری بھی موجودتھے ۔چوہدری لیاقت علی نے کہاکہ حکومت ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوں ۔ ان کاکہناتھا’’ہم حکومت کو اس طرح کے کسی بھی فیصلے پر انتباہ دیتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ نوشہرہ ،سندر بنی اور کالاکوٹ کے عوام کے مطالبات پورے کئے جائیں‘‘۔ان کاکہناتھاکہ نیشنل کانفرنس کوٹرنکہ اے ڈی سی پوسٹ کے ساتھ کسی بھی طرح کی تخفیف کو برداشت نہیں کرے گی ۔ان کاکہناتھاکہ کوٹرنکہ میں نظام اسی طرح سے چلایاجائے جس طرح چل رہاہے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوسٹ کے ساتھ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور نہ ہی لوگ اسے روٹیشنل بنیاد پر چلانے کی اجازت دیںگے ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت بدھل کو تحصیل کادرجہ دینے کے فیصلے کو بھی عملانے میں ناکام رہی ہے اور علاقاے کے لوگوں کی جائز مانگ کو نظرانداز کیاجارہاہے ۔چوہدری نے کہاکہ حال ہی میں منعقد ہوئی قبائلی امور محکمہ کی میٹنگ کے منٹس میں ہیرا پھیری کی گئی جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ حکام کا نظام پر کوئی اختیار نہیں اور اتنی بڑی سطح پر ہوئی میٹنگ کے منٹس کیسے تبدیل کئے گئے ۔انہوںنے گزشتہ روز نوشہرہ میں پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی شدید مذمت کی تاہم حالات کیلئے موجودہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔شفاعت خان نے کہا کہ ریاستی سرکار کو چاہئے کہ وہ دوغلی پالیسی کھیلنا بند کرے اور عوام کے مطالبات پرتوجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ منجاکوٹ میں ایس ڈی ایم تعینات کرنے کے ساتھ درہال میں ڈگری کالج اوجھان میں نائب تحصیلدار ، پیڑی میں تحصیلدار تعینات کئے جائیں ۔انہوںنے شوپیاں میں شہری ہلاکتوں کی بھی مذمت کی۔