منڈی//سرکار کی طرف سے تحصیل منڈی کے علاقہ چھمبر کناری میں 1954 میں پرائمری اسکول قائم کیاگیاتھا جو 1996میں مڈل اسکول اور اس کے بعد 2014میں ہائی سکول بن گیاتاہم حیران کن طور پر اس میں صرف 6اساتذہ تعینات ہیں اور طلباء کی تعداد بھی102 ہی ہے ۔زون میں طلباء اور اساتذہ کی اتنی کم تعداد کسی دوسرے سکول بھی نہیں ہے جتنی اس میں ہے ۔یہ ادارہ تحصیل منڈی کے صدر مقام سے سات کلو میٹر دوری پر واقع ہے جس میں صرف چھ اساتذہ تعینات کئے گئے ہیں جو زیر تعلیم102طلباء کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ اس علاقہ میں یہ سب سے قدیم سکول ہے جس سے آج تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ پڑھے ہیں ،تاہم آج اس کی حالت دیگر گو ں ہے ، اگرچہ چھ اساتذہ تعینات ہیں لیکن وہ بھی کبھی بھی آتے ہیں اور ان کے آنے جانے کے اوقات بھی الگ الگ ہی ہوتے ہیں ۔چھمبر کناری کے سابق سرپنچ عبدا لخالق نے اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2014میں ریاستی سرکار کی طرف سے اس سکول کا درجہ بڑھایا گیا اور اسے مڈل سکول سے ہائی کردیاگیامگر اس میں پڑھانے کیلئے اساتذہ ہی تعینات نہیںاور نہ ہی کوئی دیگر سہولت میسر ہے ۔انہوںنے بتایاکہ اس حوالے سے مقامی لوگوںنے متعدد مرتبہ حکام سے اپیل کی لیکن ان کی کوئی سنوائی نہ ہوئی ۔انہوںنے کہاکہ تحصیل منڈی کا تعلیمی نظام حکومت کے اعلانات کی قلعی کھول دیتاہے اور اس طرف توجہ نہ دینے کا نتیجہ ہے کہ تعلیمی میدان میں یہاں کے طلباء کافی پیچھے رہ گئے ہیں ۔انہوںنے محکمہ کے وزیر سے مداخلت کی اپیل کی ۔