بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال کی فٹ پاتھوں پر نجی گاڑیوں کی غلط اور غیر قانونی پارکنگ کی بھر مار کی وجہ سے عام راہگیروں کا چلنا پھرنا نہ صرف دو بھر ہوگیا ہے بلکہ نجی گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ ٹریفک جام اور سڑک حادثات کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ اگرچہ قصبہ بانہال کو پارکنگ اور بس اڈے کی کمی کا سامنا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ اپنی نجی گاڑیوں میں قصبے اور مارکیٹ کا رخ کرکے راہگیروں کیلئے مشکلات کا سامان پیدا کریں۔ صبح اور دوپہر کے اوقات میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول بانہال سے لیکر سیڈ ہاوس پْل ناگبل تک جگہ جگہ پر لوگوں نے فٹ پاتھوں پر اپنی گاڑیاں پارک کرکے رکھی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے سکول اور کالج آنے جانے والے بچوں ، بیماروں اور سینکڑوں عام لوگوں کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور شاہراہ پر بھی ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تاجروں نے اپنی دکانوں کے باہر فٹ پاتھوں اور عوام کی چلنے پھرنے والی جگہوں پر تجاوزات کرکے مال لگا کر بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے راہگیروں کا چلنا مسدود ہوکر رہ جاتا ہے۔ بانہال قصبے میں مسافر گاڑیوں کیلئے بس اڈہ نہ ہونے اور قصبہ بانہال کے وسط میں جامع مسجد عید گاہ کے سامنے کم قلیل جگہ کو بھی میونسپل کمیٹی بانہال نے پہلے ہی تنگ جگہ میں کئی بڑے بڑے شیڈ بنا کرمبینہ طور خود کی اور محکمہ کی آمدنی کو بڑھایا ہے۔ جامع مسجد عید گاہ کے باہر اس چھوٹی سے جگہ پر میونسپل حکام کے آشیر واد سے کی گئی تجاوزات کی وجہ سے کھڑی ، مہو منگت ، نیل چملواس اور رام بن مگر کوٹ انے جانے والی مسافر گاڑیوں اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرکے دربدر ہونا پڑتا ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی بانہال کا کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے اور ناہی یہاں کوئی ایگزیکٹیو آفیسر تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے قصبہ بانہال میں فٹ پاتھوں پر اور عوامی جگہوں پرکچھ لوگ اور دوکاندار اپنی گاڑیوں ، ریڑیوں اور سجائے گئے مال اور سامان کی وجہ سے مسلسل قابض رہتے ہیں اور مبینہ طور ہفتہ لینے والے میونسپل حکام خاموش تماشائی بن کر روزانہ کی بنیادوں پر مشکلات کا شکار بننے والے ہزاروں راہگیروں کا تماشائے دیکھتے رہتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی ، انتظامیہ اور محکمہ ٹریفک کے درمیان تال میل کی زبردست کمی کی سزا بانہال قصبہ سے گذرنے والے مرد و خواتین سمیت مسافروں کو بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ قصبے کا رخ کرنے والے جانکار لوگوں کا کہنا ہے کہ قصبے کا رخ نجی گاڑیوں میں کرنے والے لوگ اور کچھ دکانداراپنی گاڑیوں کو سیڈ ہاوس پل کے پار کسکوٹ – لامبر روڈ پر بنائے گئے ایک بڑے اڈے میں پارک کرنے کے بجائے گاڑیوں کو قصبہ میں لاکر فٹ پاتھوں اور شاہراہ کے دائیں بائیں پارک کر دیتے ہیں اور خود اپنے کام نپٹانے کیلئے دکانوں ، دفتر اور بنکوں وغیرہ میں چلے جاتے ہیں اور اس دوران قصبہ میں عام راہگیروں ، مرد وخواتین اور سکولی بچوں اور تاجر برادری کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال میں ایگزیکٹیو افسر تعینات نہیں ہے جبکہ ای او بھدرواہ کو بانہال میونسپل کمیٹی کا اضافی چارج دیا گیا ہے جو نا کے برابر ہے اور میونسپل کمیٹی کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہے۔