نوشہرہ //نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دینے کی مانگ پر 29ویں روز بھی مقامی لوگوں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور انہوںنے آج جموں چلو کی کال دی ہے جس کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔بیوپار منڈل کی کالج پر بازار 29ویں روز بھی بند رہااور سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے جمع ہوکر حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔ انہوںنے اس دوران ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی جو پٹیل چوک سے شروع ہوئی اور بازار سے ہوتے ہوئے تحصیل صدر دفتر میں اختتام پذیر ہوئی ۔ اس موقعہ پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بیوپار منڈل صدرسبھاش کپورنے کہاکہ سرکار کو نیند سے جگانے کا وقت آگیاہے اور آج یعنی سنیچر کو نوشہرہ کے تاریخی پٹیل چوک سے جموں تک پیدل سفر شروع کیاجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ منگل کے روز سیول سیکریٹریٹ جموں کا گھیرائو کیاجائے گا۔اس موقعہ پر انہوںنے نوشہرہ سب ڈیویژن کے تمام دیہاتوں کے لوگوںسے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جموں کیلئے مارچ کریں ۔ سابق ممبر اسمبلی و نیشنل کانفرنس لیڈر ٹھاکر رچھپال سنگھ بھی دھرنے میں شامل ہوئے ۔ انہوںنے اپنے خطاب میں کہاکہ نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ ضلع درجہ کیلئے مانگ کررہے لوگوں کا مطالبہ جائز ہے اور سرکار فوری طور پر اس سلسلے میں اقدامات کرے ۔ انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں کالاکوٹ کے عوام بھی نوشہرہ کے حق میں ہیں ۔واضح رہے کہ نوشہرہ کے لوگوںنے حکومت کی طرف سے دی گئی نوشہرہ اور سندر بنی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوسٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھاہواہے ۔اگرچہ گزشتہ روز حکومت کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے بھی نوشہرہ ،کالاکوٹ اور سندر بنی کا دورہ کرکے مظاہرین سے بات چیت کی تاہم یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا اور مقامی لوگ اب ضلع درجہ کی مانگ کیلئے بضد ہیں ۔