بھدرواہ //سب ضلع ہسپتال بھدرواہ میں فوج کی جانب سے منعقدہ 2 روزہ میگا ملٹی اسپر سپیشلٹی طبی کیمپ میں اتوار کے روز ریکارڈ تعدا میں وادی چناب کے پانچ ہزار سے زائد مریضوں کا معائینہ کیا گیا ۔اس کیمپ میں 23 ڈاکٹر بشمول فوج کے ایک درجن کے قریب اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے شرکت کی۔طبی کیمپ کا مقصد ضلع ڈوڈہ کے دور دراز علاقہ کے لوگوں کو خصوصی طبی سہولیت فراہم کرنا تھا،جہاں پر ڈاکٹروں کی سخت قلت ہے۔ اس میگا طبی کیمپ کا افتتاح ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا ،مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے وزیر مملکت برائے تعلیم اور سیاحت شکتی پریہار اور ایم ایل اے بھدرواہ دلیپ پریہار اور لیجسلیٹر رویندر رینہ کے ہمراہ ہفتہ کے روزبھدرواہ میں کیاتھا،جسکا انعقاد فوج کی جانب سے آپریشن سد بھاونہ کے تحت سب ۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کیا گیا تھا۔کیمپ کا اختتام اتوار کے روز مریضوں کے بھاری رش کے ساتھ کیا گیا ۔ بی ایم او بھدرواہ ڈاکٹر یدھ ویر سنگھ کے مطابق اس کیمپ میں 5328 مریضوں بشمول 444 امراض خواتین ، 545 آرتھو، 384 سرجیکل،814 آنکھوں، 604 ای این ٹی،376 اطفال ، 507 میڈیکل،1240 جنرل او پی ڈی اور 324ڈینٹل او پی ڈی مریضوں کا معائینہ کیا گیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کئے گئے۔اسکے علاوہ مریضوں کا ایکس رے اور کلنکل ٹیسٹ بھی کئے گئے۔امراض خواتین کا کافی رش دیکھا گیا کیونکہ سب ۔ڈسٹرکٹ ہسپتال بھدرواہ، ٹھاٹھری اور گندو میں کوئی بھی ماہرامراض خاتون ڈاکٹر نہیں ہے۔اے ایم سی کی ماہر امراض خاتون ڈاکٹر پرنجالی کے مطابق کیمپ میں مریضوں کا کافی رش دیکھنے کو ملا اور میں نے تمام مریضوں کا معائینہ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ علاقہ میں خواتین مریضوں کا 80 فیصد خون کی کمی کے مرض میں مبتلا ہیں۔سرپنچ گوتسا،بھدرواہ بال کرشن نے کہا کہ اس کیمپ سے دور درازعلاقہ کے غریب اور ضرورتمندوں کو طبی خدمات مہیا ہوئے ہیں،جہاں پر ان خدمات کا فقدان ہے۔دریں اثنا جی او سی ڈیلٹا فورس میجر جنرل راجیو نندا نے یقین دلایا ہے کہ فوج آپریشن سد بھاونہ کے تحت اپنا خیر سگالی کا جذبہ برقرار رکھے گی اور اسی نوعیت کے طبی کیمپ مستقبل میں منعقد کرنے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں ڈوڈہ ضلع کے تمام علاقوں کے مریضوں نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ مریضوں کا بغیر کسی پریشانی کے کیمپ میں شرکت کرنے اور انہیں لانے و لے جانے کے لئے فوج کی جانب سے مرمت ، گندو، چھرالہ و دیسہ کے دور افتادہ علاقوں سے مریضوں کو کیمپ تک لانے اور لے جانے کیلئے ہم نے بسوں کو کام پر لگایا تھا۔