بانہال // ریاستی سرکار کی طرف سے سرکاری مڈل اور ہائی سکولوں کو درجہ بڑھانے کے حکم نامے کے بعد ضلع رام بن کے پرانے سکولوں میں شمار کیا جانے والا ہائی سکول پوگل کا نام اس فہرست میں نہ پاکر پوگل۔ مالیگام کے لوگوں میں زبردست غم وغصہ اور مایوسی پائی جارہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ارباب اقتدار اور محکمہ تعلیم نے ضلع رام بن کے سب سے پرانے اور سب سے زیادہ فیڈنگ سکولوں پر مشتمل گورنمنٹ ہائی سکول پوگل ضلع رام بن کو ہائر سینکڈری کا درجہ نہ دیکر علاقے کے ساتھ سخت نا انصافی کی ہے اور اس صورتحال نے پوگل۔ مالیگام اور ملحقہ علاقوں کی ہزاروں کی آبادی کے دلوں میں سالوں سے ہائر سینکڈری پانے کی امید اور تمنا خاک میں مل گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع رام بن کی تحصیل اْکڑال، پوگل پرستان کا ہائی سکول پوگل ننانوے سال کی تاریخ کے بعد بھی ہائر سیکنڈری کا درجہ نہیں پانے کی وجہ سے لوگوں کے جذبات بْری طرح سے مجروح کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوگل کے بیشتر دیہات کے سینکڑوں بچوں کو روزانہ پندرہ سے بیس کلومیٹردور ہائر سیکنڈر ی سکول اُکڑال کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں ہائی سکول پوگل میں291 بچے زیر تعلیم ہیں جن مین 121 طالبات شامل ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گورنمنٹ ہائی سکول پوگل بانہال کا قیام سنہ 1919 میں پرائمری سکول کی صورت میں وجود میں آیا ہے اور یہاں دیوی داس ٹھاکر ، مولوی عبدالرشید ، محمد حنیف بٹ ، بشیر احمد رونیال سمیت کئی شہرت یافتہ اور نامور شخصیات نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا سابقہ تحصیل بانہال کے دورافتادہ علاقہ اکڑال کے پہاڑوں پر واقع موضع پوگل کی آبادی بیشتر دیہات پر مشتمل بستیوں کا مرکز ہے اور اس سکول کے ساتھ درجہ بندی میں کی گئی زیادتی علاقے کے لوگوں کیلئے ناقابل برداشت معاملہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی سکول پوگل کو 1926 عیسوی میں سنٹرل سکول کا درجہ دیا گیا اور 1946 عیسوی میں اسے مڈل سکول کا درجہ دیا گیا اور دس سال بعد 1956 میں اس سکول کو مڈل سکول سے اپ گریڈ کرکے ہائی سکول کا درجہ دیا گیا جو 62 برسوں کے طویل عرصے کے بعد بھی تمام تر سرکاروں ، سیاسی لیڈروں اور محکمہ تعلیم کے وعدے کے باوجود بھی ہائر سیکنڈری سکولوں کی فہرست میں نہیں اْٹھایا گیا۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ کہ فہرست کو مشتہر کرنے کے عین موقع پر ہائی سکول پوگل کا نام نہ پاکر لوگوں میں زبردست مایوسی پھیل گئی اور انہیں یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ ایسا بھی ہوا ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہائی سکول پوگل کے بعد وجود میں آئے وادی چناب کے تقریبا تمام سکول ، ہائرسیکنڈری سکولوں کا درجہ پا چکے ہیں لیکن تعلیمی اور ترقی کے لحاظ سے اس پسماندہ علاقے کا ہائی سکول پوگل سرکاری عدم توجہی کی وجہ سے مکمل طور سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس سکول میں آج بھی تین سو کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں اور یہاں سے روزانہ کئی درجن طلبہ اور طالبات کو ازیت ناک سفر طے کرکے اکڑال ہائر سیکنڈری جانا پڑتا ہے اور منزل کی دوری کی وجہ سے غریب بچوں کو دسویں کے بعد کی تعلیم حاصل کرنا ایک خواب بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا پوگل ، مالیگام ، کنڈہ ، نورا، تھنہ ، چھپکنی ، گوہالہ ، باسن ، درزی پورہ ، تلیہال ،کھاروان اور سرگلی وغیرہ سے تعلق رکھنے والے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے درجنوں طلبہ اور طالبات کو روزانہ پیدل اور گاڑیوں میں سوار ہوکر یہاں سے سخت اور دشوار گذار سفر کے بعد اُکڑال کی ہائر سیکنڈری کا رخ کرکے مزید تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے اور سب کی نگاہیں ہائر سیکنڈری پوگل کے قیام پر لگی ہوئی تھیں لیکن اسے ہائر سکینڈر ی سکول کا درجہ نہ دیکر لوگوں کے دل اور جذبات سخت مجروح ہوئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہائی سکول پوگل کو نظر انداز کرنے کی نامعلوم وجہ نے سیاسی قیادت اور محکمہ تعلیم کی سنجیدگی پر سوالات کھڑے کئے ہیں اور عوام اس کا جواب چاہتی ہے۔