بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر قصبہ بانہال اور دیگر علاقوں میں ٹریفک جام کا سلسلہ بدھ کی صبح سے ہی شروع ہوا جو وقفے وقفے سے شام تک جاری رہا ۔ بھاری ٹریفک اورشاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں مقامی گاڑیوں کی بہتات کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل قصبہ بانہال اور چملواس کے درمیان چھ کلومیٹر کے حصے پر محیط سیکٹر میں کئی گھنٹوں تک نہایت ہی سست رہی اور مسافروں کو اپنی اپنی منزلوں اور ریل پکڑنے کیلئے تاخیر اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا ۔ٹریفک جام کی وجہ سے شاہراہ پر سفر کرنے والے عام لوگوں کے علاوہ کھڑی ، چملواس ، نیل اور رامسو مگرکوٹ سے عید کی خریداری کیلئے ائے لوگوں کو لیکر آرہی ٹاٹا سونا اور میٹاڈاروں کو کئی کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنسے رہنا پڑا ۔ محمد شاہین نامی ایک مقامی مسافر نے بتایا کہ انہیں قصبہ بانہال سے چملواس کے پانچ کلومیٹر کے علاقے کو گاڑی میں طے کرنے کیلئے دو گھنٹے لگے اور کڑکتی دھوپ کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شاہراہ پر بدھ کے روز جموں سے مال بردار گاڑیوں کو وادی کی طرف آنے کی اجازت تھی جبکہ مسافر بردار گاڑیوں کو دو طرفہ ٹریفک میں چلنے کی اجازت ہے۔ بدھ کے روز معمول سے زیادہ ٹریفک شاہراہ پر نظر آیا اور صبح دس بجے سے ہی قصبہ بانہال سے ٹریفک جام کا سلسلہ چملواس اور درشی پورہ کے درمیان جاری رہا اور ٹریفک کی نقل و حرکت سست رفتاری کا شکار ہوگئی ۔ ٹریفک ذرائع نے بتایا کہ قصبہ بانہال میں بھاری رش اور پارکنگ نہ ہونے کی وجہ سے شاہراہ کے دونوں طرف پارک کی گئی گاڑیاں قصبہ میں پیدا ہوئے ٹریفک جام کیلئے اہم وجہ بنی رہیں اور اس میں اور ٹیکنگ کرنے والی چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں نے مزید اضافہ کردیا – انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر قصبہ بانہال اور اس کے دونوں طرف ٹریفک کی رفتار سست رہی اور پولیس اور ٹریفک اہلکار ٹریفک کو معمول پر لانے کیلئے برابر موجود تھے اور سہہ پہر بعد تک بیشتر ٹریفک نے جواہر ٹنل کو پار کیا تھا ۔