گول//یہاں علاقہ سرنڈا میں لوگوںنے محکمہ ایریگیشن کی جانب سے کئی سال قبل لوگوں کو کھیتوں کے لئے پانی فراہم کرنے کے لئے ’داڑم سول ‘چشمے پرتالاب بنایا تھا اور جہاں سے محکمہ نے کھیتی باڑی کے لئے لوگوں کو پانی فراہم کیا ہے لیکن محکمہ صحت عامہ نے چوری چوری سے کچھ کنکشن اس چشمے سے لوگوں کوفراہم کئے ہیں اور دس دس ہزار ، بیس بیس ہزار روپے محکمہ نے ان کنکشنوں کے لئے ان لوگوں سے لئے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں ہمارا انحصار کھیتی باڑی پر ہی ہے لیکن محکمہ صحت عامہ کے اہلکاروں نے تمام پانی بیچ دیا ہے اور رشوت خوری کو یہاں پر پروان چڑھا کر رکھا ہے ایسا ہم ہرگز ہونے نہیں ددیں گے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں لوگوں کو ایک پائپ نہیں ملتی ہے وہیں محکمہ صحت عامہ نے چوری چوری سے سرکاری پائپوں کو فروخت کیا ہے اور اس چشمے کے ساتھ ساتھ نہر کو کافی نقصان پہنچایا ہے جس پر لاکھوں روپے لگے ہیں اس کی سی بی آئی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ لوگوں نے کہا کہ اس وقت غریب لوگ کافی پریشان ہیں کھیتوں کے لئے پانی نہیں ہے لیکن محکمہ صحت عامہ موٹی موٹی رقم لے کر پانی کو بیچ رہا ہے ۔ لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہاں پر محکمہ صحت عامہ اُن ہی لوگوں کو پانی فراہم کرتا ہے جو ان کی جیبوں کو گرم کرے گا ۔