بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر بانہال قصبہ کے دونوں اطراف سے ہفتے کی صبح سے شروع ہوا ٹریفک جام وقفے وقفے کے ساتھ دوپہر بعد تک جاری رہا جس کی وجہ سے شاہراہ پر بانہال کے علاقے میں ٹریفک کی نقل وحرکت نہایت ہی سست رہی۔ ٹریفک جام کی وجہ سے قصبہ بانہال کے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں وقفے وقفے سے پھنستی رہیں اور سفر دشوار گذار ہوگیا ۔ بانہال کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہفتے کی صبح سویرے بانہال کے نزدیک گنڈ عدلکوٹ علاقے میں ڈرائیوروں کی آپسی تکرار کی وجہ سے شروع ہوا ٹریفک جام دوپہر بعد تک جاری رہا جس کی وجہ سے دوطرفہ ٹریفک میں چلنے والے مسافروں اور ٹرک ڈرائیوروں کو کئی گھنٹوں تک جام میں پھنسے رہنا پڑا۔ آج معمول کے ٹریفک میں شامل مال بردار ٹرکوں ، ایندھن بردار ٹینکروں ، بسوں اور فورسز کانوائے کو جموں سے سرینگر کی طرف جانے کی اجازت تھی جبکہ مسافر بردار گاڑیاں دو طرفہ ٹریفک میں چلتی ہیں۔ ٹریفک جام کی وجہ سے حسب معمول مقامی آبادی سکولی اور کالج جانے والے بچوں اور بیماروں اور سرکاری ملازموں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا اور وہ کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر سے اپنی اپنی منزلوںتک پہنچے۔ ٹریفک پولیس کا کہنا چھوٹی مسافر گاڑی والوں کی طرف سے کسی وجہ سے تریفک کے تھم جانے کے دوران کی جانے والی اندھا دھند اور ٹینکنگ ٹریفک جام کا سبب بنتی ہے اور پہلے والے ٹریفک جام کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور اور ٹیکنگ کے سلسلے کو جاری رکھ کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قصبہ بانہال میں کوئی بس اڈہ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی گاڑیوں کا بھی رش ہوتا ہے جو بعضا وقات ٹریفک جام کا سبب بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال قصبہ کے دونوں طرف ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کی نقل وحمل سست رہی تاہم اسے دوپہر تک مکمل طور بحال کیا گیا۔