کشتواڑ میں مارکیٹ چیکنگ ، 2400جرمانہ وصول
عظمیٰ نوز
کشتواڑ//لیگل میٹرالوجی محکمہ کشتواڑ کی جانب سے مختلف دفعہ جات کی خلاف ورزیوں کے پاداش میں 19 خاطی دوکانداروں کے خلاف معاملات درج کئے ہیں۔محکمہ کی ٹیم نے کشتواڑ قصبہ اور ملحقہ قصبوں سرتھل، چھاترو اور مغل میدان میں طویل مارکیٹ چیکنگ کی اور 19 خاطی تاجروں کے خلاف کارروائی کی۔ٹیم نے موقعہ پر ہی خاطی تاجروں سے 24000 (چوبیس ہزار روپے )بطور جُرمانہ وصول کیا۔دریں اثنا ء تاجروں کو تصدیق شدہ پیمانوں کا استعمال کرنے اور ناجائز منا فع خوری سے اجتناب کرنے کی ہدایت دی گئی۔
کانگریس کارکنان ممبر اسمبلی اندروال سے خفا
جموں //ریاست کے ضلع کشتواڑ کے کانگریس کارکنوں کے ایک گروپ نے حلقہ اندروال کے ایم ایل اے کو آئیندہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ سے دوبارہ منڈیٹ دینے کے خلاف پا رٹی چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔ کانگریس کارکنوں کی یہ کارروائی ایک ماہ بعد ممبر اسمبلی شام لعل شرما کی جانب سے پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔ شام لعل شرما نے پارٹی صدر جی اے میر کی جانب سے جموں خطہ کے عوام کے مدعوں کو حل کرنے میں ناکام رہنے کی صورت پر سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔کانگریس کارکنوں کو ریاست میں جلد ہی اسمبلی انتخابات کا خدشہ ہے ۔ اس سے قبل دو درجن کانگریسی کارکنوں بشمول پردیش کانگریس کمیٹی اور ضلع کانگریس کمیٹی ممبران نے کہا کہ وہ ایم ایل اے سروڑی کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کیونکہ پارٹی انکی مبینہ شکایات کا نوٹس لینے میں ناکام رہی ہے۔ضلع کانگریس کمیٹی کے ممبر منصور احمد نے کہا کہ ہم نے ریاستی لیڈرشپ کے ساتھ رابطہ بنانے کی کوشش کی اور پارٹی ہائی کمانڈ کے ساتھ بذریعہ سابقہ وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد رابطہ بنانے کی کوشش کی۔ جب پارٹی کے ریاستی ترجمان ر ویندر شرما کے ساتھ اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے ا ور اگر شکایات جائز ہوں تو انکے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔شرما نے مزید کہا کہ سروڑی پارٹی کانائب صدر ہے ا ور تین مرتبہ ایم ایل اے ہیں،جسے حلقہ کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔اور کسی نے بھی اسکے خلاف کوئی شکایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ورکرووں کا پردیش صدر سے جموں میںملنے کے بغیر ہی براہ راست میڈیا سے خطاب کرنا غلط بات ہے۔لیکن بٹ نے کہا کہ انہوں نے میر کی جانب سے وقت ینے کے بعد پارٹی دفتر گئے اور جب وہ وہاں پہنچنے میں ناکام رہے تو سابق وزیر رمن بھلہ اور اعلیٰ ترجمان نے انہیں منانے کی کوشش کی اور یقین دلایا کہ وہ اسکی شکایات کو حل کریں گے۔ضلع کانگریس کمیٹی کے ایک او رممبر سرفراز خان نے کہا کہ انہوںنے ماضی میں پارٹی ہائی کمانڈ نے کافی یقین دہانیاں دی تھیں لیکن ان پر کوئی عمل نہیں ہوئی اسلئے ہم نے ہائی کمانڈ کے ساتھ بذریعہ میڈیا رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ حلقہ اندوال کے لوگ سروڑی اور اسکی کنبہ پروری سے تنگ آئے ہیں۔انہوں نے سروڑی کے اثاثہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی لہر کے باوجود ہم نے سروڑی کی تیسری مرتبہ کامیابی کو یقینی بنایا ۔انہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ وہ عام لوگوں کو کیا ،یہاں تک کہ پارٹی کارکنوں کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔کانگریسی کارکنوں نے سماجی کارکُن پیارے لعل شرما کو حلقہ سے پارٹی کا امید وار بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے تنبہیہ کی کہ اگر پارٹی ان کے مطالبے پر غور نہیں کرے گی تو وہ پارٹی کو الوداع کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
کانگریس عوامی اُمنگوں کی حقیقی ترجمان :سروڑی
کشتواڑ//ایم ایل اے اندروال غلام محمد سروڑی نے پارٹی کارکنان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ایجنڈے کی پیروی کی جائے کیونکہ ریاست کی عوام نے پارٹی کی پالیسیوں اورپروگراموں کی حمائت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے عوام سے کئے وعدوں کو حقیقت میں ترجمہ کیا ہے اس لئے عوام کو پارٹی سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ضلع ڈوڈہ کے باتھری اور کاہراہ میں سروڑی نے عوامی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دور اقتدار میں کام سے عوام کا یقین جیتا ہے اور عوام اپنی خواہشات کو لیکر کانگریس کی جانب دیکھ رہے ہیں۔سروڑی نے پارٹی کارکنان سے کہا کہ عوام کی خواہشات پر کھرا اترا جائے ۔ سروڑی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ علاقہ میں شروع کی گئی عوامی فلاح و بہبود کی مختلف اسکیموں کا بھر پور فائدہ اُٹھائیں۔اس دورے کے دوران لوگوں نے مختلف مسائل ایم ایل اے کے سامنے اُجاگر کئے اور اُن کے سامنے متعدد مطالبات رکھے جن میں اسکولوں میں تدریسی عملہ کی قلت، پانی کی ناقص سپلائی،بجلی کی بار بار کی کٹوتی، راشن کی قلت،نا مکمل سڑکوں کی تکمیل،منریگا بقایا جات اورسڑکوں کی خستہ حالی جیسے مسائل ایم ایل اے کے سامنے اُبھارتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ ان مسائل کا ازالہ ترجیحی بیادوں پر کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ کانگریس کا مقصد خطے میں امن اور عوامی مشکلات کا ازالہ کرنا ہے ۔موصوف نے کہا کہ ہماری جماعت کی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بالکہ امن کا قیام اور ترقی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد کے دور اقتدار میں نمایاں ترقی ہوئی ۔یہاں پارٹی میں درجنوں کارکنان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سروڑی نے کہا کہ کانگریس منقسم طاقتوں کے خلاف ہے ۔
پسیاں گرآنے سے بھدرواہ میں پینے کے پانی کی قلت
طاہر ندیم خان
بھدرواہ // گُذشتہ36گھنٹوں سے لگا تار بارش کی وجہ سے کیچڑ کی پسیاں گر آنے سے بھدرواہ میں پینے کے پانی کی سخت قلت کا سامنا ہے کیونکہ محکمہ صحت عامہ نے پانی کی سپلائی معطل کر دی ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں خصوصاً ہوٹل اور گیسٹ ہائوس مالکان کو سیاحتی سیزن میں کافی پریشانی ہوئی ہے۔مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں کیچڑ والاپانی مہیا ہوتا ہے یا پانی ملتا ہی نہیں ہے۔محکمہ صحت عامہ لوگوں کی پریشانی حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بھدرواہ کے ایک ہوٹل مالک راکیش زُتشی نے کہا ہے کہ ہر سال ہمیں مون سون کے دوران پانی کی قلت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اور ہم نے متعدد دفعہ محکمہ صحت عامہ سے متبادل انتظامات کرنے کی درخواست کی ہے لیکن تا دم اس سلسلہ میں کُچھ بھی نہیں کیا گیاہے۔ اُس نے مزید کہا کہ رواں سال میں سیاحوں کی کافی بُکنگ ہوئی ہے اور اگر پانی کا یہی حال رہا ،تو ہمیں خدشہ ہے کہ وہ اپنی بُکنگ ختم کریں گے۔دریں اثنا ء سب ۔ڈویژن محکمہ صحت عامہ نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے کئی مقامات پر پائپوں کو نقصان ہوا ہے ،جسکی وجہ سے معمول کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور یقین دلایا ہے کہ قصبہ میں پانی کی سپلائی فوری طور بحال کی جائے گی اور اسکے علاوہ ہوٹل والوں کی مانگ پوری کرنے کے لئے ڈوڈہ سے ٹینکروں کو بھی کام پر لگایا گیا ہے۔
مہور میں خواتین کو بااختیار بنانے کا پروگرام منعقد
ریاسی // فوج نے مہور میں خواتین کو بااختیار بنانے کے طریقہ میں بہتری لائی۔اس بہتری کے تحت فوج نے موجودہ سہولیات میں اضافہ کرنے کیلئے فاضل ایکوپمنٹ ،کچا مال حا صل کرنے اور خواتین کے لئے کام پر مبنی تربیت فراہم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ جس کے تحت فوج نے موزے بنانے کی مشین ،موم بتی بنانے کی مشین،ہینڈ فلیٹ مشین، سٹچنگ پیڈل مشین اور چھاتا بنانے کی مشینیں حاصل کی گئی اور خواتین کو تربیت فراہم کرنے کے لئے مہیا کی گئی۔ملحقہ علاقوں کی21خواتین نے اس پروگرام میں شرکت کی اور اپنے ہنر میں اضافہ کر دیا ۔پروگرام میں خواتین کو نہ صرف تربیت فراہم کی گئی بلکہ روز گار کمانے کا بھی وسیلہ فراہم کیا گیا ،جس سے وہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ کمائی بھی کرسکیں گی۔خواتین کو مشاہرہ اور چیزوںکی فروخت سے حاصل کیا ہوا پورا منافع بھی ادا کیا گیا ۔ خواتین نے فوج کی جانب سے یہ پروگرام منعقد کرنے کی ستائش کی اور کہا کہ اس تربیت سے انکی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔