بانہال // ضلع رام بن میں قائم کئے گئے متعدد آنگن واڑی مراکز پچھلے کئی سالوں سے مقفل پڑے ہیں اور مرکزی اور ریاستی سرکار کی معاونت سے چھوٹے بچوں کیلئے کھولے گئے یہ مراکز اپنا مقصد کھو چکے ہیں۔ ضلع رام بن میں محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے چھوٹے بچوں کی نشو نما کیلئے ICDS کی طرف نے باقی علاقوں کی طرح تحصیل کھڑی، آئی سی ڈی ایس بلاک مکرکوٹ کے درجنوں آنگن واڑی مراکز بند رہنے کی اطلاعات ہیں اور ان مراکزکو فراہم کئے جانے والا راشن کہا جاتا ہو گا، یہ بات صیغہ راز نہیں ہے۔ ننھے بچوں کی نشو نما اور بہتر مستقبل کیلئے ریاست میں ہزاروں آنگن واڑی سینٹر قائم ہیں اور یہاں ورکروں اور ملازمین کی طرف سے کی جانے والی کوتاہی ان غریب بچوں کے مستقبل کو بھی اثر انداز کر رہی ہے ۔ تحصیل کھڑی کے آکھرن اور باوا میں گوجر بستیوں کیلئے ایسے ہی مراکز کئی سال پہلے قائم کئے گئے ہیں لیکن ستم ظریفی کی بات یہ کہ یہ مراکز سالہاسال سے مقفل ہیں اور آنگن واڑی ورکر اور ہیلپر مسلسل غائب ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے آنگن واڑی سینٹر جانے والے بچوں کا جانا بند ہے اور ان کی افزائش اور صحت کیلئے بھیجی جانیو الی راشن اور نیوٹریشن مل بانٹ کر ہڑپ کی جاتی ہے ۔ آکھرن اور باوا گوجرکے خدا بخش پنچ ، نور محمد اورمحمد شفیع گوجر پر مشتمل ایک وفد نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ باوا اور اکھرن کی گوجر بستیوں میں قائم آنگن واڑی سینٹر مسلسل بند پڑے ہیں اور اِن سینٹروں کے بچوں کیلئے فراہم کئے جانے والے راشن کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ اس مسئلے کو لیکر پچھلے کئی سالوں سے لوگوں نے متعلقہ چائیلڈ ڈیولپمنٹ افسر اور پرگرام افسر رام بن اور تحصیل وضلع حکام کو متعدد بار مطلع کیا گیا ہے لیکن اْن کی طرف سے اس معاملے کی طرف کوئی غور نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آجکل اکھرن اور باوا کے بچے گرمیوں کے ڈھوکوں میں چلے جاتے ہیں اور جب سال کے آٹھ مہینے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں تب بھی یہ سینٹر کام نہیں کرتے ہیں اوران مراکزوں کے نام پچھلے کئی سالوں کے راشن کو غائب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوجر طبقے کے غریب بچوں کیلئے قائم یہ مراکز بے سود ہوکر رہ گئے ہیں اور بچوں کو راشن اورتعلیم فراہم کرنا تو دور کی بات یہاں تعینات ورکروں کا سالوں سے کوئی اتہ پتہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی محکموں کی طرح سماجی بہبود کا ICDS بھی گوجر طبقے کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے اور عام لوگ مشکلات سے دو چار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ کی جانے والی اس حق تلفی کی وجہ سے بچوں کو تعلیم اور نیوٹریشن کی عدم دستیابی کی وجہ سے سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا متعلقہ محکمہ اور انتظامی امور دیکھنے والے حکام کی نوٹس میں یہ معاملہ کئی بار لایا گیا ہے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرنے اپیل کی ہے۔